تارکین وطن غیر قانونی طریقے سے یورپ نہ آئیں: ڈونلڈ ڈسك

یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ڈسك نے پناہ گزینوں کے بحران کو حل کرنے کی ایک نئی کوشش کے حوالے سے غیر قانونی طریقے سے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کو خبردار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کو انسانی اسمگلروں پر بھروسہ کر اپنی ’زندگی اور دولت‘ کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

ڈونلڈ ڈسك نے جمعرات کو ترکی اور یونان کا دورہ کر کے تارکینِ وطن کی مغرب کی جانب پیش قدمی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کی۔

خیال رہے کہ 25,000 سے زیادہ تارکین وطن اس وقت یونان کی سرحدوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔

تارکین وطن کے ایک گروپ نے جمعرات کو یونان کی سرحد کے پاس میسڈونیا جانے والے ایک ریلوے ٹریک کو بلاک کر دیا تھا۔

ایتھنز میں جمعرات کو یونان کے وزیرِ اعظم ایلیکسس تسیپراس کےساتھ ملاقات کے بعد ڈونلڈ ڈسک کا کہنا تھا ’میں تمام تارکین وطن سے اپیل کرتا ہیں کہ وہ یورپ نہ آئیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ تارکینِ وطن کو انسانی اسمگلروں پر بھروسہ کر اپنی ’زندگی اور دولت‘ کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

ڈونلڈ ڈسک نے یورپی یونین کے رکن ممالک سے کہا کہ وہ تارکین وطن کے بحران کو حل کرنےکے لیے یک طرفہ کارروائی سے گریز کریں۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند فرانس کے شہر ایمنیز میں سکیورٹی اور پناہ گزینوں کے بحران پر بات چیت کی۔

اس ملاقات سے قبل فرانس کے وزیر خزانہ ایمینوئیل میکرون نے کہا کہ اگر جون کے ریفرنڈم کے بعد برطانیہ یوروپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو ان کا ملک تارکین وطن کو بغیر کسی چیک کے برطانیہ جانے دینے کی اجازت دے سکتا ہے۔

اسی بارے میں