جاپان: متنازع امریکی فوجی اڈے کا توسیعی کام معطل

جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے اوکیناوا میں متنازع امریکی فوجی اڈے کو منتقل کرنے کے لیے شروع کیے جانے والا تعمیراتی کام معطل کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

وزیر اعظم آبے نے کہا کہ وہ عدالتی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کو قبول کرتے ہیں جو مقامی حکام اور مرکزی حکومت کے درمیان طویل تنازعے کے بعد طے پا سکا ہے۔

حکومت امریکی فوتینما فوجی اڈے کو گنجان آبادی والے علاقے سے نکال کر دور دراز والے کسی دوسرے علاقے میں منتقل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن مقامی حکام اور وہاں کے رہائشی اس فوجی اڈے کو پوری طرح سے ختم کرنے کے حق میں ہیں۔

جاپان نے اس کے لیے ناگو شہر کے جنوب میں، جہاں ہینو نامی ایک اور امریکی فوجی اڈا واقع ہے، کیمپ شواب کے ساحل پر جگہ کا انتظام اور کام شروع کر دیا تھا۔

لیکن مسٹر آبے نے کہا ہے کہ اب وہ اس کام کو روکنے کا حکم دے دیں گے تاہم حکومت کا منصوبہ بالآخر اس اڈے کو ہینوکو کے پاس منتقل کرنے کا ہے۔

اوکیناوا کے جزیروں پر کئی فوجی اڈے ہیں جہاں دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ایک دفاعی معاہدے کے تحت 26 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

اوکیناوا کے رہائشی ان امریکی فوجی اڈوں کے سخت مخالف ہیں اور انھیں پوری طرح سے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

سنہ 1995 میں امریکی فوجیوں نے وہاں ایک 12 برس کی لڑکی کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی تھی جس کے بعد سے امریکی فوجیوں کی موجودگی خلاف شدید مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔

1945 میں اتحادی افواج نے دفاعی نقطۂ نظر سے اہم اس جزیرے کو جاپان کے خلاف حملے کے آغاز کا مقام تصور کیا تھا۔ تاہم اس جزیرے سے اتحادیوں نے حملہ شروع نہیں کیا تھا کیونکہ اگست 1945 میں ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹمی بم گرنے کے بعد جاپان نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

1972 تک اوکیناوا پر امریکی فوج کا قبضہ رہا۔ لیکن جاپان کے انتہائی جنوب میں واقع اس جزیرے پر اب بھی 26 ہزار کے قریب امریکی فوجی موجود ہیں اور ان کے کئی فوجی اڈے بھی یہاں ہیں۔

امریکی فوجی اڈوں کو شہری علاقوں سے نکال کر ساحلی علاقوں میں لے جانے کے ایک منصوبے پر ٹوکیو میں مرکز کے حکام اور اوکیناوا کے اہلکاروں کے درمیان پہلے ہی سے تنازع پیدا ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں