اقوامِ متحدہ کی امن فوج پر لگنے والے الزامات میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سینٹرل افریقن رپبلک میں ستمبر 2014 سے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے دس ہزار ارکان تعینات ہیں

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ادارے کی امن فوج میں شامل فوجیوں پر لگائے جانے والے جنسی حملوں کے الزامات میں گذشتہ برس ایک تہائی اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2015 میں ایسے الزامات کی تعداد 69 رہی جبکہ 2014 میں یہ تعداد 52 جبکہ سنہ 2013 میں 66 تھی۔

2015 میں عائد کیے جانے والے الزامات میں سے ایک تہائی وسطی جمہوریہ افریقہ (سینٹرل افریکن رپبلک) میں تعینات فوجیوں پر عائد کیے گئے ہیں۔

پہلی مرتبہ اس رپورٹ میں ان ممالک کے نام بھی شائع کیے گئے ہیں جن کے فوجی مبینہ طور پر اس قسم کے واقعات میں ملوث تھے۔

2015 میں کل دس امن مشنز پر الزامات لگائے گئے اور جو افراد موردِ الزام ٹھہرے ان میں فوجیوں اور عالمی پولیس کے ارکان کے علاوہ دیگر عملہ اور رضاکار بھی شامل تھے۔

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 16 امن مشنز میں 124746 اہلکار خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

اس عالمی ادارے پر اکثر امن فوج پر لگنے والے جنسی زیادتی کے الزامات کے بارے میں فوری کارروائی نہ کرنے پر تنقید ہوتی رہی ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں ایک غیرجانبدار پینل نے سینٹرل افریکن رپبلک میں لگائے جانے والے ایسے الزامات پر اقوامِ متحدہ کے ردعمل کو ’بالکل خراب‘ اور ’ادارے کی سنگین ناکامی‘ قرار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں 16 امن مشنز میں 1,24,746 اہلکار خدمات سرانجام دے رہے ہیں

پینل کی رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے سینیئر حکام پر اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کرتے ہوئے فرانس، استوائی گنی اور چاڈ کے فوجیوں پر لگنے والے الزامات پر کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی رپورٹ میں ’امن مشن کے دوران جرائم‘ کے بارے میں عالمی کنونشن کی تخلیق کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بان کی مون نے کچھ جرائم کے لیے موقع پر ہی کورٹ مارشل کی کارروائی کرنے اور امن فوج میں شامل تمام فوجیوں کا ڈی این اے ڈیٹا بیس تیار کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

انھوں نے ایسے مشنز میں اپنی فوج بھیجنے والے ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے قوانین میں تبدیلیاں لائیں تاکہ ان کا اطلاق اقوامِ متحدہ کے تحت امن فوج میں کام کرنے والوں پر بھی ہو سکے۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل فوجیوں پر ان کے اپنے ملک کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے جس کی وجہ سے جس ملک میں جرم ہوا ہو وہاں ان کے خلاف کارروائی مشکل ہوتی ہے۔

رواں برس فروری میں اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ وہ سینٹرل افریقن رپبلک میں جنسی استحصال کے الزامات کے بعد سو سے زیادہ فوجیوں کو واپس بھجوا دے گی۔

سینٹرل افریقن رپبلک میں ستمبر 2014 سے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے دس ہزار ارکان تعینات ہیں۔

جنسی زیادتی کے الزامات میں سینٹرل افریقن رپبلک کے بعد دوسرا نمبر کانگو کا ہے جہاں سے 16 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ تیسرے نمبر پر ہیٹی رہا جہاں نو واقعات کی خبر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں