شامی پناہ گزینوں کی کینیڈا میں نئی زندگی

تصویر کے کاپی رائٹ Mark Blinch for the BBC

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے چھوٹے سے شہر بیلی ویل کے ایک چھوٹے اور پر ہجوم کلاس روم میں شام سے تعلق رکھنے والے عبدالمالک الجاسم انگریزی زبان کی اہم اصطلاحیں سیکھ رہے ہیں۔

وہ کوٹ، دستانے، ہیٹ، رومال اور جوتوں کے عربی ناموں کے سامنے انگریزی میں لکھ رہے ہیں۔

کینیڈا میں رہنے کے لیے انھیں ان تمام اشیا کی ضرورت ہوگی۔

عبدالمالک الجاسم گذشتہ سال لبنان میں چار سال گزارنے کے بعد اکتوبر میں کینیڈا آئے تھے۔ لبنان میں عبدالمالک الجاسم اور ان کے خاندان والے شام میں ان کے گاؤں حما ہر بمباری کے بعد گئے تھے۔

ان کے 11 بچے ہیں جن میں جڑواں بچوں کے دو جوڑے بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mark Blinch for the BBC

عبدالمالک الجاسم اور ان کے خاندان والے اس نئے ملک میں آنے سے قبل پریشان اور خوفزدہ تھے۔ اس خاندان کا بحر اوقیانوس کے پار کا یہ پہلا سفر پہلا ایسا سفر تھا۔

اب جب وہ کینیڈا پہنچ چکے ہیں تو ان کا نیا سفر انگریزی زبان سیکھنا، سکول جانا اور اپنے لیے کوئی روزگار تلاش کرنا ہے۔

کینیڈا کی حکومت نے 25 ہزار شامی پناہ گزینوں کی دوبارہ آبادکاری کے لیے فروری کے اختتام تک کا وقت متعین کر رکھا ہے۔ تقریباً 26 ہزار پناہ گزین فروری کے اختتام تک کینیڈا میں پہنچ چکے ہیں جن میں سے 8567 کو نجی طور پر سپانسر کیا گیا ہے۔

رواں سال کے اختتام تک حکومت کا ارادہ ہے کہ کینیڈا میں حکومت سے مدد لینے والے پناہ گزینوں کی تعداد کم ازکم 25 ہزار ہونی چاہیے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے گذشتہ سال دسمبر میں کہا تھا کہ ’یہ وہ کام ہے جو ہم اس ملک میں کر سکتے ہیں کیونکہ ہم کینیڈا کی تعریف رنگ، زبان، مذہب یا پس منظر سے نہیں کرتے۔‘

عبدالمالک الجاسم اور ان کے بچے اس نئے ملک میں زندگی گزارنا سیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے جنوری میں آئس سکیٹنگ کرنا سیکھا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کینیڈا میں سرد موسم اور برف کو پسند نہیں کرتے۔ تاہم ایسی تمام چیزوں کی ’وقت کے ساتھ‘ عادت ہو جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mark Blinch for the BBC

جاسم کے ساتھ کلاس روم میں بطور مترجم کام کرنے والے جمال باسط کا کہنا ہے کہ ’شام میں سب کچھ چلا گیا ہے، سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔ وہاں کچھ باقی نہیں رہا جس کے لیے واپس جایا جائے۔‘

جاسم کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی پرانے کپڑوں والی الماری پسند ہے۔ کینیڈا میں انھیں ’کپڑوں کے اوپر بہت سے کپڑے پہننے پڑتے ہیں۔‘

آہستہ آہستہ تمام دیگر بچے سکول سے پیلے سکول بسوں میں گھروں کو واپس آ رہے ہیں۔ بڑے لڑکوں نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے اپنے بہن بھائیوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں۔

ایک نوجوان لڑکی نے اپنا پسندیدہ جملہ دہرایا جو انھوں نے سکول میں سیکھا تھا: ’گڈ جاب، گڈ جاب۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mark Blinch for the BBC

ایک نوجوان بھائی نے کہا کہ وہ لبنان میں ایک لمبے عرصے تک بطور قصاب کام کرنے کے بعد سکول جاتے ہوئے خوش ہیں۔ تاہم وہ چاہتے ہیں کہ انھیں جلد از جلد کوئی کام بھی مل جائے تاکہ وہ گھر والوں کا سہارا بن جائیں۔

ان کے سپانسر ایک مقامی آرٹ گیلری کی مالک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ میک ڈونلڈز کے مینیجر سے بات کریں گی تاکہ انھیں کوئی نوکری مل سکے۔ یہ سننے کے بعد ان کی آنکھوں میں چمک آگئی ہے۔

کینیڈا پہنچنے کے بعد حسن کے خاندان والوں کی پریشانی اور تکلیف یہ تھی کہ گھریلو ضرورت کی اشیا کے بیگ کو ایلیویٹر پر کیسے لے جایا جائے۔

بطل الحسن کا کہنا ہے کہ ’ہم امید کر رہے ہیں کہ یہ سب ابھی ہی رک جائے اور مزید کسی بھی ایسی صورت حال کا سامنا نہ کرے، ہم اپنے ملک واپس لوٹ جائیں اور اسے دوبارہ تعمیر کریں۔ خدا کی مرضی سے یہ رک جائے اور تبدیل ہو جائے۔ اگر ہماری نسل کے لیے نہیں تو مستقبل کی نسل کے لیے ہی سہی۔‘

کینیڈا کے بارے میں ان کی ایک بیٹی نے کہا کہ ’یہاں کتنی آزادی ہے، میں بہت بہت خوش ہوں۔‘

ان کی سپانسر اور مترجم مریلا بارازی نے بتایا کہ ’وہ اردن میں رہتے ہوئے کہیں باہر نہیں جا سکتی تھیں، گھر پر ہی رہتی تھیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ کا دم گھٹ رہا ہے۔ وہاں کوئی آزادی نہیں تھی، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mark Blinch for the BBC

حسن سے جب پوچھا گیا کہ شام میں حالات بہتر ہونے کے بعد کیا وہ واپس جائیں گے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا نیا گھر کینیڈا ہے۔

’ہم یہاں رہنا چاہتے ہیں۔ ہم ضرور شام جانا چاہیں گے، لیکن صرف وقتی طور پر۔ ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے ہم وہاں رہنا چاہیں گے، جہاں ہم زندگی بنا سکتے ہیں۔‘

’یہاں سب کا درجہ یکساں ہی ہے۔‘

دو ماہ کے بعد عبدالمالک الجاسم کے گھر والے پکٹن میں ایک نئے گھر میں منتقل ہو گئے ہیں اور میک ڈونلڈز میں کام کرنے کی خواہش رکھنے والے احمد کو پکٹن میں ریستوران میں ملازمت مل گئی ہے۔ جبکہ ان کےدیگر بھائی بھی مقامی کمپنی کینو اور کیاک میں کام کر رہے ہیں۔

عبدالمالک الجاسم کے پاس اب اپنی گاڑی ہے اور انھیں کہیں آنے جانے کے لیے سپانسر کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔

اسی بارے میں