ٹرمپ کو قتل کرنے کی خواہش، مصری طالبعلم گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Cairo post
Image caption امریکی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسید کو اپنے ویزے کی شرائط کی خلاف وزی کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے

امریکہ میں ایک مصری زیرِ تربیت پائلٹ کو فیس بک پر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے بارے میں کمنٹ کرنے پر ملک بدری کا سامنا ہے۔

مصر سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ طالبعلم ایملدین السید نے فیس بک پر لکھا تھا کہ اگر وہ ٹرمپ کو قتل کر دیں تو اس کے لیے دنیا ان کی شکرگزار ہوگی۔

امریکہ میں زیرِ تعلیم اس مصری نوجوان کی وکیل ہانی بشرا کا کہنا ہے کہ ان کے موکل پر سرکاری طور پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی ہے لیکن حکام کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں ملک بدر کر دیا جائے۔

السید کو کیلیفورنیا کی ایک جیل میں رکھا گیا ہے اور ان کی ملک بدری کا فیصلہ ایک امیگریشن کورٹ کر ے گی۔

طالبعلم کی وکیل کا کہنا ہے کہ ’حکومت ان پر کوئی مجرمانہ دفعات نہیں لگا سکی اس لیے وہ امیگریشن کورٹ کے ذریعے میرے موکل کو ملک بدر کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان انتخابات میں ہر جانب سے سخت بیانات دیے جا رہے ہیں ، اسی ماحول کی وجہ سے السید نے انجانے میں ایسا کمنٹ لکھ دیا تھا۔‘

وکیل بشرا حانی نے بتایا ہے کہ مریکہ کی ’سیکرٹ سروس‘ کے اہلکاروں نے ان کے موکل سے رواں برس فروری میں اس وقت پوچھ گچھ کی تھی جب السید نے فیس بک پر لکھا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کر کے عمر قید کی سزا بھگتنے کےلیے تیار ہے۔

سیکریٹ سروس نے السید کو بتایا تھا کہ ان پر فردِ جرم تو عائد نہیں کی جا رہی ہے لیکن ان کا ویزا منسوخ کر دیاگیا ہے۔

ادھر السید نے جیل سے خبرساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ایک احمقانہ پوسٹ تھی، انٹرنیٹ پر اس طرح کے لاکھوں پیغامات شیئر کیے جاتے ہیں۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکام اس احمقانہ پوسٹ کی وجہ سے مجھے قومی سلامتی کے لیے خطرہ کیوں سمجھ رہے ہیں۔‘

امریکی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ السید کو ویزے کی شرائط کی خلاف وزی کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں