یمن میں رہاہباؤں کا قتل ’شیطانی‘ عمل ہے: پوپ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہلاک ہونے والی دو ننز کا تعلق روانڈا اور دیگر دو کا بھارت اور کینیا سے تھا

کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے یمن میں چار راہباؤں سمیت 16 افراد کے قتل کی مذمت کی ہے۔

جمعے کو عدن شہر میں ایک عمر رسیدہ افراد کے مرکز پر ہونے والے حملے کو انھوں نے ’بدحواس قدم اور شیطانی تشدد‘ قرار دیا۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے خود کو یہ ظاہر کیا وہ اپنے ماؤں سے ملنے آئے ہیں تاکہ وہ عمارت کے اندر داخل ہو سکیں۔

کسی گروہ یا فرد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

تاہم یمنی حکام نے اس کا الزام شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ پر عائد کیا ہے۔

ویٹیکن کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والی دو راہباؤں کا تعلق روانڈا اور دیگر دو کا بھارت اور کینیا سے تھا۔ وہ بطور نرس اس مرکز میں کام کر رہی تھیں اور جب یہ حملہ ہوا اس وقت یہاں رہائش پذیر80 افراد کو کھانا دے رہی تھیں۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ہلاک ہونے والے ایک فرد کے بھائی کے حوالے بتایا ہے کہ تمام افراد کے سر پر گولی ماری گئی اور ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشنریز آف چیرٹی کی ترجمان سنیتا کمار کا کہنا تھا کہ اس کے ممبران ان ہلاکتوں پر ’بالکل سکتے‘ میں ہیں

راہباؤں کا تعلق مشنریز آف چیرٹی سے تھا جس نے یہ مرکز قائم کیا تھا اور اس کی بنیاد کلکتہ میں مدر ٹریسہ نے رکھی تھی۔

ویٹیکن کے سیکریٹری سٹیٹ پیٹرو پارولن کا کہنا تھا کہ پوپ فرانسس ’یہ بے معنی قتل عام ہمارے ضمیر کو جگائے گا، دلوں کو تبدیل کرے گا، اور تمام فریقین کو ہتھیار پھینک کر مکالمے کے راستے پر لے آئے گا۔‘

مشنریز آف چیرٹی کی ترجمان سنیتا کمار کا کہنا تھا کہ اس کے ممبران ان ہلاکتوں پر ’بالکل سکتے‘ میں ہیں۔

خیال رہے کہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان خانہ جنگی جاری ہے۔

شدت پسندتنظیموں دولت اسلامیہ اور القاعدہ نے بھی ان ملک میں جاری اس خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا اثرورسوخ قائم کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن جنگ میں اب تک 6000 افراد ہلاک اور 24 لاکھ سے زائد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں