نینسی ریگن چل بسیں

تصویر کے کاپی رائٹ Ronald Reagan Presidental Library Getty
Image caption اس جوڑے کو امریکی صدور کی سب سے بڑی محبت کی داستان سے تعبیر کیا جاتا تھا۔

امریکہ کی سابق خاتون اوّل اور صدر رونالڈ ریگن کی اہلیہ نیسنی ریگن 94 برس کی عمر میں ریاست کیلیفورنیا میں انتقال کر گئی ہیں۔

ریگن لائبریری نامی تنظیم کے مطابق لاس اینجلیس میں مقیم نیسنی ریگن کی موت حرکت قلب بند ہو جانے سے ہوئی۔

نیسنی ریگن اور رونلڈ ریگن 52 سال تک رشتہ ازدواج میں رہے اور ایک وقت تھا کہ اس جوڑے کو امریکی صدور کی سب سے بڑی محبت کی داستان سے تعبیر کیا جاتا تھا۔

سنہ 1981 تا سنہ 1989 کے درمیانی برسوں میں وائٹ ہاؤس میں قیام پذیر رہنے والی نیسنی ریگن کو امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ پُر اثر خاتون اوّل سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ شروع شروع میں انھیں اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ وائٹ ہاؤس کی تزین و آرائش پر بہت زیادہ پیسے خرچ کر رہی تھیں تاہم بعد میں وہ امریکہ کی نہایت ہر دلعزیز شخصیت رہیں۔

ریگن لائبریری کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیسنی ریگن کو سِمی ویلی میں واقع رونلڈ ریگن پریزیڈینشل لائبریری میں ان کے شوہر کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حالیہ برسوں میں نیسنی ریگن کی صحت مسلسل خراب ہوتی رہی ہے

اپنے شوہر کی طرح نیسنی ریگن بھی امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ تک پہنچنے سے قبل ہالی وڈ کی فلمی دنیا سے منسلک رہ چکی تھیں۔ سنہ 1940 اور سنہ 1950 کے درمیانی برسوں میں نیسنی ریگن بطورہ اداکارہ ہالی وڈ میں کام کر رہی تھیں اور پھر انھوں نے سنہ 1952 میں اپنے وقت کے معروف اداکار رونلڈ ریگن سے شادی کر لی تھی۔

وائٹ ہاؤس سے پہلے وہ ریاست کیلیفورنیا کی خاتون اوّل بھی رہ چکی تھیں جب ان کے شوہر سنہ 1967 سے سنہ 1975 تک ریاست کے گورنر تھے۔

کہا جاتا ہے کہ خاتون اوّل کے طور پر نیسنی ریگن نے سابق صدر کینیڈی کی مشہور اہلیہ جیکی کینیڈی کا انداز اپنایا تھا۔ اس حوالے سے نیسنی ریگن نے نہ صرف وائٹ ہاؤس کی آرائش نو پر بہت زیادہ پیسے خرچ کیے، بلکہ دس لاکھ ڈالرمالیت کے بڑے بڑے ڈیزائنروں کے بنائے ہوئے ملبوسات کے تحفے بھی قبول کیے اور چینی مٹی کے بنے ہوئے 4,732 بیش قیمت برتن بھی قبول کیے جن کی مالیت دو لاکھ نو ہزار ڈالر سے کم نہیں تھی۔

اس قسم کے بے تہاشا اخراجات کی وجہ سے امریکی عوام کی طرف سے نیسنی ریگن کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ایسے وقت میں جب لاکھوں امریکیوں کو اپنی نوکریوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں، خاتون اوّل اپنی عیاشی پر بے پناہ پیسے خرچ کر رہی ہیں۔

رائے عامہ سنہ 1987 میں نینسی ریگن کے اس وقت مزید خلاف ہو گئی جب یہ الزامات سامنے آنے لگے کہ خاتون اوّل غیر جذباتی اور سرد مہر شخصیت کی مالک ہیں، وہ اکثر نجومیوں سے مشورے کرتی رہتی ہیں اور انھوں نے وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف ڈونلڈ ریگن کو ملازمت سے برخاست کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیسنی ریگن کے شوہر رونلڈ ریگن سنہ 2004 میں انتقال کر گئے تھے

ان دنوں میں نیسنی ریگن نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا تھا کہ ’میرے خیال میں خاتون اوّل کا ایک کام یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ صدر کو عوام سے کٹ جانے سے روکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں لوگوں سے باتیں کرتی ہوں۔ وہ مجھے باتیں بتاتے ہیں۔ اور اگر کوئی مسئلہ پیدا ہونے والا ہوتا ہے تو میں فوراّ عملے کے کسی فرد کو بلا کر پوچھتی ہوں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں ایک ایسی خاتون ہوں جو اپنے شوہر سے محبت کرتی ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی شرمندگی نہیں کہ میں صدر کی ذاتی زندگی اور سیاسی بہتری کا خیال رکھتی ہوں۔‘

اسی بارے میں