شمالی کوریا کی امریکہ،جنوبی کوریا کو جوہری حملوں کی دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شمالی کوریا امریکہ اور جنوبی کوریا کی سالانہ فوجی مشقوں کو حملے کی تیاری کے طور پر دیکھتا ہے

شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ مشترکہ فوجی مشقوں کے نتیجے میں انھیں ’بلا امتیاز‘ جوہری حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں میں ہر سال دسیوں ہزاروں فوجی حصہ لیتے ہیں اور ہر سال ان مشقوں کی وجہ سے تناؤ پیدا ہوتا ہے۔

ان تازہ مشقوں میں جنوبی کوریا کے تقریباً تین لاکھ اور امریکہ کے 15 ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں اور یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مشقیں ہیں۔

’انصاف کے لیے پیش بندی کے طور پر جوہری حملے‘ کے بارے میں بات پیانگ یانگ سےجاری ہونے والے ایک بیان میں کی گئی ہے۔

اس قسم کے بیانات غیر معمولی نہیں ہیں تاہم ماہرین شمالی کوریا کی اپنے میزائلوں کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرنے کی صلاحیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہیں۔

گذشتہ سال شمالی کوریا نے اسی قسم کا بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ واشنگٹن کو ’آگ کے سمندر‘ میں تبدیل کر دے گا۔

شمالی کوریا امریکہ اور جنوبی کوریا کی سالانہ فوجی مشقوں کو حملے کی تیاری کے طور پر دیکھتا ہے۔

یہ مشقیں ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہیں جب حال ہی میں شمالی کوریا کی جانب سے رواں برس جوہری تجربے اور راکٹ خلا میں بھیجنے کے واقعات کے بعد اقوامِ متحدہ کی جانب سے اس پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

شمالی کوریا نے ان پابندیوں کے جواب میں کہا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار ’پیش بندی‘ کے طور پر تیار کر رہا ہے۔

اسی بارے میں