’میدان خالی کر دیں، اب مقابلہ ٹیڈ کے ساتھ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکہ میں صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ریپبلکن پارٹی کے سب سے زیادہ حمایت یافتہ امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر امیدواروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس دوڑ سے باہر ہو جائیں اور اب وہ اپنے دوسرے بڑے مقابل ٹیڈ کروز کا براہ راست مقابلہ کریں گے۔

صدارتی انتخاب کی دوڑ میں ٹرمپ اور ہلیری کی سبقت برقرار ’ٹرمپ کا صدر بننے والا مزاج ہی نہیں ہے‘

دوسری جانب ٹیڈ کروز نے نے بھی اسی خیال کا اظہار کیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی جماعت کے دیگر امیدوار، مارکو روبیو اور جان کسیچ، ایک طرف ہو جائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیڈ کروز نے ان خیالات کا اظہار ریپلکن پارٹی کے سنیچر کے انتخابات کے بعد کیا ہے جن میں دونوں امیدواروں کو دو دو ریاستوں میں کامیابی ملی ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل برنی سینڈرز کو اگرچہ دو ریاستوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، تاہم ہلری کلنٹن ریاست لوزیانا میں زبردست کامیابی کے بعد اب بھی سب سے آگے ہیں۔

سنیچر کو ریاست کینٹیکی اور لوزیانا میں ابتدائی مرحلے (پرائمریز) میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب ’میں ٹیڈ کروز کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کے لیے تیار ہوں۔‘

ریپلکن پارٹی کے دوسرے امیدواروں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ مارکو روبیو کے لیے گزشتہ رات بہت ہی بری تھی، اس لیے ان کو میرا ذاتی مشورہ یہی ہے کہ وہ اس دوڑ سے باہر ہو جائیں۔ میرا خیال ہے کہ اب واقعی انھیں اس دوڑ سے نکل جانا چاہیے۔‘

دوسری جانب ریاست کینساس اور ریاست مین میں ریپبلکن پارٹی کے نامزدگی کا انتخاب جیتنے والے ٹیڈ کروز کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں بھی ’جب تک میدان میں ایک سے زیادہ امیدار رہیں گے، اس کا فائدہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہی ہوگا۔‘

اسی بارے میں