امریکی انتخابات ’صرف بالغوں کے لیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کئی ناظرین نے سیاسی مذاکروں میں فقرے بازی اور اشاروں کنایوں پر خفگی کا اظہار کیا ہے

امریکہ میں جاری صدارتی انتخابات کی نامزدگی کی دوڑ میں اب تک ہمیں تحقیر، جنسی اشارے کنائے اور بھونڈے فقروں سمیت بہت کچھ سننے کو مل چکا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہم بچوں سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ بھی سیاست میں دلچسپی لیا کریں اور سنا کریں کہ ملکی رہنما کیا کہہ رہے ہیں؟

ٹی وی پر ریپلکن امیدواروں کے درمیان تازہ ترین مناظرہ دیکھنے والے کچھ والدین اپنے بچوں کے سامنے بیٹھے ہوئے قدرے شرمندگی کا شکار ہو رہے تھے۔ ان والدین کی بے چینی اسی وقت شروع ہو گئی تھی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے مباحثے کے دوران اچانک اپنے ہاتھوں کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی۔

اس کا پس منظر یہ ہے کہ سنہ 1980 کی دہائی میں ایک رسالے نے لکھ دیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’چھوٹی چھوٹی انگلیوں والے بازاری اور اوچھے شخص‘ ہیں۔

مباحثےسے چند دن قبل ریبلکن پارٹی کے دوسرے امیدوار مارکو روبیو ٹرمپ نے ریاست ورجینیا میں انتخابی مہم کے دوران لوگوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ماضی کا یہ فقرہ یاد کرایا۔ اس تو تو میں میں کا آغاز ڈرمپ نے خود کیا تھا جب انھوں نے بار بار مارکو روبیو کے قد کے حوالے سے انھیں تمسخر کا نشانہ بنایا تھا۔

مارکو روبیو نے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے کبھی اُن (ٹرمپ) کے ہاتھ دیکھیں ہیں؟ آپ کو پتا ہے کہ لوگ چھوٹے ہاتھوں والے شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یہی ناں کہ آپ ایسے شخص پر اعتبار نہیں کر سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے پہلے ہی مباحثے کے اختتام پر میگن کیلی کو تسمخر کا نشانہ بنایا تھا

پھر چند ہی دنوں بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بات مباحثے کے دوران اٹھا دی اور لوگوں کی جانب ہاتھ لہرا کر بولے ’ مارکو نے میرے ہاتھوں کے بارے میں بات کی ہے۔ اگر میرے ہاتھ چھوٹے ہیں تو کچھ اور بھی چھوٹا ہوگا۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے اس قسم کا کوئی مسئلہ نہیں۔ میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں۔‘

ریاست نیور جرسی کے قصبے میپل شیڈ کی رہائشی مشیل لبرٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں یہ مذاکرہ اپنی تیرہ سالہ بیٹی کے ساتھ دیکھ رہی تھیں۔ جوں ہی ٹرمپ نے یہ بات کی میں نے پلٹ کر اپنی بیٹی کی طرف دیکھا کہ اس کا ردعمل کیا ہے۔‘ میری بیٹی بولی ’کیا ٹرمپ اسی بارے میں بات کر رہے ہیں جو میرے ذہن میں ہے؟‘

مشیل کی طرح کئی دیگر ناظرین نے بھی اس حوالے سے اپنی خفگی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی چینل این بی سی سے منسلک سیاسی امور کی تجزیہ کار ٹریسی پوٹس نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’مجھے ٹرمپ کی مردانگی والی بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔‘

اس مناظرے سے پہلے بھی والدین کی بڑی خاصی تعداد نے یہ سوچنا شروع کر دیا تھا کہ آیا انتخابی مہم کے دوران ہونے والی سیاسی گفتگو اور مناظرے اس قابل ہیں کہ انھیں چھوٹے بچوں کو دیکھنا چاہیے؟

اگر آپ اس بات کو بھول بھی جائیں کہ امیدوار ایک دوسرے پر کس قسم کے فقرے کس رہے تھے، تو تب بھی آپ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات کا کیا کریں گے جو انھوں نے فوکس نیوز سے منسلک خاتون صحافی میگن کیلی کو اس وقت کہی تھی جب وہ ٹرمپ سے بار بار سوال کر رہی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’مجھے نہیں پتا کہ کہاں کہاں سے میگن کیلی کا خون نکل رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لنڈا سارسر کہتی ہیں کہ مسلمان والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو آجکل کی سیاسی گفتگو سے دور ہی رکھیں

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ جسمانی حوالے سے ایک رپورٹر کا مذاق بھی اڑا چکے تھے اور دیگر صدارتی امیدوار ایک دوسرے کو زیادہ پسینہ آنے اور ’گیلی پینٹوں‘ کے طعنے دے چکے تھے۔

امریکہ کے ہارورڈ میڈیکل سکول سے منسلک بچوں کی نفیسات کے ماہر سٹیفن شولزمین کہتے ہیں کہ ’میری یادداشت میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ مجھے یہ دھیان رکھنا پڑ رہا ہے کہ آیا میں اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کوئی سیاسی گفتگو یا مذاکرہ دیکھ سکتا ہوں یا نہیں۔‘

’ہمارے پاس ایسا کوئی طریقہ یا معیار موجود نہیں جس سے ہم ایک دس سالہ بچے کو بتا سکیں کہ کوئی صدارتی امیدوار کھلے عام اپنے جسمانی خصائل اور مردانگی کی بات کیوں کر رہا ہے اور اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں