دولتِ اسلامیہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے ماہر سے امریکہ کی تفتیش

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پینٹاگون کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ کی سپیشل فورسز نے عراق میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں جو کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف سخت حکمتِ عملی کا حصہ ہے

اطلاعات کے مطابق امریکہ کی سپیشل فورسز نے عراق میں دولتِ اسلامیہ سے منسلک کیمیائی ہتھیاروں کے ایک ماہر کو پکڑا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

’دولتِ اسلامیہ نے عراق میں مسٹرڈ گیس استعمال کی‘

امریکی میڈیا نے عراقی اور امریکی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ تحویل میں لیے جانے والا شخص سابق عراقی صدر صدام حسین کی حکومت میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے ماہر کی حیثیت سے کام کررہا تھا۔

ان نام سلمان داؤد الفاری بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہےکے انھیں گذشتہ ماہ پکڑا گیا تھا۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ اس گرفتاری کی تصدیق نہیں کرتے تاہم ادارے کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ کی سپیشل فورسز نے عراق میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں جو کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف سخت حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقے کا منظر

امریکی ذرائع نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ زیرِ حراست شخص تفتیش کے دوران بتا چکا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے کیسے مسٹرڈ گیس کو شیلز میں بھرا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ بھی کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والے ادارے او پی سی ڈبلیو نے کہا تھا کہ گذشتہ برس عراق کے کرد فوجیوں پر حملے میں سلفر مسٹرڈ کا استعمال ہوا۔ اس حملے کا الزام دولتِ اسلامیہ پر لگایا تھا۔

اگر اس خبر کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ سابق صدر صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد کیمائی ہتھیاروں کے استعمال کا پہلا واقعہ ہوگا۔

سلمان داؤد الفاری کے بارے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ وزارتِ صنعت کے سابق اہلکار ہیں اور اربل میں محصور تھے۔ یہ علاقہ شمالی عراق میں کردوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق سلمان داؤد سے دولتِ اسلامیہ کی جانب سے مسٹرڈ گیس کے استعمال کے لیے منصوبے کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔

سلفر مسٹرڈ کو عام طور پر ’مسٹرڈ گیس‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ مائع حالت میں ہوتی ہے اور اس میں پائے جانے والے اجزا جلن کا باعث بنتے ہیں اور اس سے جلد، آنکھوں اور سانس لینے کے نظام کے ساتھ ساتھ اندرونی اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے دو نامعلوم عراقی خفیہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سلمان داؤد دولتِ اسلامیہ کے اس یونٹ کےسربراہ تھے جس کی جانب سے کیمیائی ہتھیار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکی حکام نے یہ اعلان تو کیا تھا کہ انھوں نے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے ایک رہنما کو گرفتار کیا ہے تاہم ان کی جانب سے زیرِ حراست شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں