فلسطینی شخص کے حملے میں امریکی سیاح ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جفا میں حملہ ساحل سمندر کے پاس ہوا

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ تل ابیب اور یروشلم میں ہونے والے حملوں میں ایک امریکی سیاح ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تل ابیب کے جنوب میں جفا کے مقام پر ایک شخص نے چاقو کے حملے میں دس افراد کو نشانہ بنایا ہے جن میں ہلاک ہونے والے امریکی سیاح ٹیلر فورس بھی شامل ہیں۔

اس وقت امریکی نائب صدر جو بائیڈن جائے حادثہ کے قریب ایک تقریب میں شریک تھے۔

اس سے قبل مقبوضہ مشرقی یروشلم میں دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائی گئیں جن میں وہ زخمی ہو گئے ہیں۔ اور تل ابیب کے نزدیک پیتہ تکوا میں ایک انتہائی قدامت پسند یہودی پر چاقو سے حملہ کیا گیا۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ ان تینوں حملوں میں شامل حملہ آور فلسطینی تھے اور انھیں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے

پولیس کا کہنا ہے کہ جفا کے حملہ آور نے ساحلی علاقے میں کئی لوگوں کو زخمی کیا اور پھر شہر کی جانب بھاگنے کے دوران کئی دوسرے لوگ بھی اس کے چاقو کی زد میں آئے۔

میگن ڈیوڈ ادوم ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویش ناک ہے۔

امریکی سیاح ٹیلر فورس ٹینیسی کی وانڈربلٹ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا اور وہ عالمی کاروبار اور سٹارٹ اپس کے بارے میں مزید معلومات کے لیے اسرائیل کے دورے پر تھا۔

یہ بات یونیورسٹی کے چانسلر نیکولس زیپو نے طلبہ کو ایک خط کے ذریعے بتائی اور انھوں نے یہ بھی بتایا کہ باقی طلبہ محفوظ ہیں اور اس واقعے کو ’خطرناک تشدد‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زخمیوں کو ہسپتال پہنچا دیا گيا ہے

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مسٹر بائیڈن نے، جو اسرائیل کے سابق صدر شائمن پیریز کے ساتھ پیریز سنٹر فار پیس میں منعقدہ ایک تقریب میں شریک تھے، اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور امریکی زندگی پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔‘

پولیس نے بتایا کہ حملہ آور غرب اردن کے شہر قلقلیا کا 21 سالہ نوجوان تھا جسے جائے حادثے پر ہی مار دیا گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جو بائڈن اور سابق اسرائیلی صدر جائے واقعہ کے پاس ایک تقریب میں شریک تھے

تل ابیب کے نزدیک پیتہ تکوا میں ہونے والے حملے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور اپنے ہی چاقو سے ہلاک ہو گیا جبکہ جس یہودی کو نشانہ بنایا گيا تھا اسے ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں