پاکستان کے لیے آٹھ ایف 16 طیاروں کے حصول کی راہ ہموار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی حکومت نے 12 فروری کو اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کو آٹھ اضافی ایف 16 طیاروں کے ساتھ ساتھ راڈار اور دیگر آلات فروخت کرے گا۔ اس معاہدے کا تخمینہ 699 ملین ڈالر لگایا گیا تھا

امریکی سینیٹ نے پاکستان کو آٹھ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت روکنے سے متعلق قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔

100 ممبران پر مشتمل امریکی سینیٹ میں 71 سینیٹروں نے قرارداد کے خلاف اور 24 نے اس کے حق میں ووٹ ڈالا جبکہ پانچ ممبران نے ووٹ نہیں ڈالا۔

’بھارت کو تشویش نہیں ہونی چاہیے‘

جمعرات کو اس معاملے پر امریکی سینیٹ کے اندر ایک گھنٹے تک بحث چلی۔

قرارداد پر اعتراضات اٹھانے کے لیےکانگرس کے اراکین کے پاس ابھی صرف دو روز باقی ہیں مگر ایسے کسی اقدام کا امکان کم ہی نظر آرہا ہے۔

12 مارچ کے بعد اوباما انتظامیہ جب بھی چاہے ان طیاروں کو پاکستان کو فروخت کرنے کے عمل کو ممکن بنانے کی اجازت دے سکتی ہے۔

امریکی حکومت نے 12 فروری کو اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کو آٹھ اضافی ایف 16 طیاروں کے ساتھ ساتھ راڈار اور دیگر آلات فروخت کرے گا۔

گذشتہ ماہ امریکی دفترِ خارجہ نے پاکستان کے لیے تقریباً 86 کروڑ ڈالر کا بجٹ پاس کیا تھا۔ جس میں سے 27 کروڑ فوجی سازوسامان کے لیے طے کیے گئے تھے۔

امریکی وزراتِ دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ان آٹھ طیاروں اور اس سے جڑے دوسرے سازوسامان کی قیمت تقریباً 70 کروڑ ڈالر ہے۔ اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ اگر یہ فروخت ممکن ہوتی ہے تو اس میں سے 43 کروڑ ڈالر پاکستان کو خود خرچ کرنے ہوں گے۔

امریکی انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کو ان طیاروں کی فروخت کی منظوری دینے کے لیے سینیٹ پر مکمل دباؤ ڈالا دیا گیا تھا۔

وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی اس کے حق میں بات کی تھی تاہم بھارت نے اپنے ملک میں تعینات امریکی سفیر کو بلا کر اس ممکنہ اقدام کی مخالفت کی تھی۔

امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر عباس جلیل جیلانی نے بی بی سی سے گفتگو میں تسلسل کے ساتھ امریکی کانگرس کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف پاک امریکہ پارٹنرشپ کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ پاک امریکہ تعلقات کی مضبوطی اور قوت کی عکاسی کرتی ہے۔

سینیٹر رینڈ پال جنھوں نے یہ قرارداد پیش کی تھی انھوں نے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت کو روکنے کے لیے ایک پرجوش تقریر کی تاہم سینیٹ کے خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین باب کارکر نے دوسرے ممبران سے اپیل کی کہ اس فروخت کو عمل میں لانے دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فروخت روکنے سے پاکستان کو شرمندگی اٹھانی پڑے گی اس کے بعد وہ روس یا فرانس سے یہ طیارے خریدنے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی غور طلب ہے کہ سینیٹر باب کارکر نے خود بھی اس سے قبل اس فروخت پر سوال اٹھائے تھے۔

پاکستان کے پاس پہلے سے موجود ایف 16 طیاروں کی تعداد 84 ہے۔

اسی بارے میں