تارکین پر بلقان کا راستہ بند کرنے پر جرمنی کا احتجاج

Image caption یونان پہنچنے کے لیے تارکین وطن یورپی یونین کے ممالک اور ترکی کا راستہ اختیار کرتے ہیں

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل یورپی اقوام پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے یورپ آنے والے پناہ گزینوں پر بلکان کا راستہ بند کرنے کا فیصلہ ’یک طرفہ‘ طور پر کیا ہے جس کی وجہ سے یونان ’مشکل صورت حال میں پھنس‘ گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے فیصلے یورپی یونین کے تمام ممالک کی رضامندی سے ہونے چاہییں۔

یاد رہے کہ بدھ کو یورپی اور ترک حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد مقدونیہ نے تارکینِ وطن کے لیے سرحدیں بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے مقدونیہ اور یونان کی سرحد پر 13 ہزار تارکینِ وطن محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس ملاقات کے بعد آسٹریا، سلووانیا، کروئیشیا اور یورپی اتحاد کے دو غیر رکن ممالک (سربیا اور مقدونیہ) نے ایسے اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں جن کا مقصد پناہ گزینوں کے بہاؤ کو روکنا ہے۔

یونان پہنچنے کے لیے تارکین وطن یورپی یونین کے ممالک اور ترکی کا راستہ اختیار کرتے ہیں، لیکن اب یورپی یونین اور ترکی دونوں نے اس بحران کو روکنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

پیر کو برسلز میں ہونے والے اجلاس میں جو منصوبہ پیش کیا گیا اس کے تحت آئندہ ترکی کے راستے یونان پہنچنے والے تمام تارکین وطن کو واپس بھیج دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت واپس بھیجے جانے والی ہر شامی باشندے کے عوض ترکی میں پہلے سے موجود کسی ایک باشندے کو یورپی اتحاد کے کسی ملک میں بسنے کا حق دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسٹریا کا کہنا ہے کہ بلقان کا راستہ بند کرنے کا فیصلہ ’مستقل‘ فیصلہ ہے

بدھ کو سربیا اور کروئیشیا کی جانب سے اس منصوبے کی تائید کے بعد جرمن چانسلر نے کہا تھا کہ بلقان کی سرحد بند کرنے کا فیصلہ غلط ہے۔

آج (جمعرات) کو ایک جرمن ریڈیو سے بات کرتے ہوئے انگیلا میرکل نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ راستہ بند کرنے سے ’مسئلہ حل نہیں ہوتا‘ اور سرحد بند کرنے کا فیصلہ ’مستقل اور دیرپا‘ حل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں اس میں کوئی شک نہیں کہ آسٹریا کی جانب سے سرحد بند کرنے کے یک طرفہ فیصلے اور پھر بلقان کے ممالک کے فیصلے کے بعد ہمارے ہاں آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد کم ہو جائےگی، لیکن اس سے یونان نہایت مشکل صورت حال کا شکار ہو جائے گا۔‘

اگر ہم ترکی کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں کر پاتے، تو یونان اکیلا یہ بوجھ زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کر سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس مسئلے کا ایسا حل چاہتی ہوں جو حقیقی طور پر یورپی حل ہو، یعنی ایک ایسا حل جو یورپی اتحاد کے تمام کے تمام 28 ممالک کو منظور ہو۔‘

دوسری جانب جمعرات کو ہی آسٹریا نے اصرار کیا ہے کہ بلقان کا راستہ بند کرنے کا فیصلہ ’مستقل‘ فیصلہ ہے اور اس میں رد و بدل نہیں ہو سکتا۔

اسی بارے میں