جعلی ماں پر جرم ثابت

Image caption اغوا کرنے والی خاتون کی شناخت کو ظاہر نہیں کیا گیا ہے

جنوبی افریقہ میں ایک خاتون پر سنہ 1997 میں دو دن کی نومولود بچی کو اغوا کرنے کا جرم ثابت ہوگیا ہے۔

پولیس نے خاتون پر الزام لگایا ہے کہ اُنھوں نے کیپ ٹاؤن کے ہسپتال سے بچی کو اغوا کرنے کے بعد، دھوکہ دہی کے ذریعے سے اُس کی حیاتیاتی والدہ ہونے کا دعویٰ کر رکھا تھا۔

50 سالہ خاتون کو گذشتہ برس شک کے بعد اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب بچی کے سکول میں اُس کی ہم شکل بچی دیکھی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دونوں بچیاں سگی بہنیں ہیں۔

اغوا ہونے والی بچی کے والدین سیلیسٹ اور مورنے نرس نے بچی کا نام زیفینی رکھا تھا لیکن جس نام کے ساتھ بچی نے پرورش پائی، اُس کے باعث شناخت ممکن نہیں ہوسکی۔

گذشتہ سال جب زیفینی ملی تو اُس وقت وہ کیپ ٹاؤن میں اپنے حقیقی والدین کے گھر کے قریب میں ہی ملزم خاتون کے ہمراہ اُن کے گھر پر رہائش پذیر تھی۔ یہ ایک کیپ ٹاؤن کا متوسط طبقے کا محلہ ہے۔

Image caption زیفینی جب دو دن کی نومولود بچی تھیں انھیں غوا کر لیا گیا تھا

سنہ 1997 میں بچی کو ملک بھر میں تلاش کیا گیا لیکن اُس میں کامیابی نہیں مل سکی۔

اپنے دفاع میں ملزم خاتون کا کہنا تھا کہ اپنا حمل ضائع ہونے کے بعد اُنھوں نے اِس بچی کو قانونی طور پر گود لیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایک مصروف ریلوے سٹیشن پر سیلویا نامی خاتون نے اُن کے سپرد یہ بچی کی تھی، اُس خاتون کو تلاش نہیں کا جاسکا۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُنھوں نے بچی کو گود لینے کے کاغذات پر دستخط بھی کیے تھے لیکن وہ کہیں کھو گئے۔

جنوبی افریقہ کے ذرائع ابلاغ کے مطابق جج نے اپنے فیصلے میں خاتون کی جانب سے داخل کرائے گئے جوابات کو پریوں کی کہانی کے طور پر بیان کیا ہے۔

اس وقت زیفینی کو سماجی کارکنوں کی دیکھ بھال میں رکھا گیا ہے۔

بچی رو رہی تھی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اغوا ہونے والی بچی کی ماں سیلیسٹ عدالت میں شواہد پیش کرتے ہوئے رو پڑیں

مقدمے کے آغاز پر جب مسز نرس نے گواہی دی تو اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پائیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ زیفینی اُن کی پہلی بیٹی تھی، اور جب اُنھوں نے گروٹ سچور ہسپتال میں اُس کو جنم دیا تو وہ صرف 18 برس کی تھی۔ اِسی ہسپتال میں سنہ 1967 میں دنیا کی پہلی دل کی پیوند کاری کی گئی تھی۔

اُنھوں نے اِس بات کی تردید کی ہے کہ اُنھوں نے ملزم کو اپنی صاحبزادی کو وارڈ سے باہر لے جانے کی اجازت دی تھی۔

مسز نرس کا کہنا ہے کہ ’میری بیٹی رو رہی تھی اور میں نے دیکھا کہ دروازے پر لال رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ایک خاتون کھڑی ہیں۔ اُنھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا وہ بچی کو اُٹھا سکتی ہیں۔‘

’مجھے درد ہو رہا تھا اور مجھ پر دواؤں کا اثر تھا۔ میں نیند میں چلی گئی۔ اگلی چیز جو مجھے یاد ہے کہ نرس مجھ سے میری بیٹی کے بارے میں سوال کر رہی تھی۔‘

مسز نرس نے بتایا کہ ’ہم نے ہسپتال کی ہر منزل پر جا کر بچی کو تلاش کیا۔ بچی جاچکی تھی۔ اور اب یہاں ملی ہے، مجھے لگتا تھا کہ یہ سب مذاق ہے۔‘

اسی بارے میں