’سنگا پور اب بھی دنیا کا مہنگا ترین شہر ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عام اشیا کی قیمتوں کے لحاظ سے درجہ بندی میں سنگا پور کو زیورخ، ہانگ کانگ، جینوا اور پیرس سے بھی اوپر رکھا ہے

ایک نئی تحقیق کے مطابق پہلے کے مقابلے میں دنیا کے کئی شہروں میں عام اشیا کی قیمتیں غیرمستحکم دیکھی گئی ہیں لیکن سنگاپور اب بھی دنیا کا مہنگا ترین شہر ہے۔

دی ایکنامک انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) نے عام اشیا کی قیمتوں کے لحاظ سے درجہ بندی میں سنگا پور کو زیورخ، ہانگ کانگ، جینوا اور پیرس سے بھی اوپر رکھا ہے۔

دنیا بھر کے 133 شہروں میں روز مرہ کی اشیا کی قیمتوں کا موازنہ کرنے کے بعد جو فہرست تیار ہوئي اس میں لندن چھٹے مقام پر جبکہ نیو یارک ساتویں پر ہے۔

ای آئی یو کا کہنا ہے کہ سب سے سستا شہر زیمبیا کا دارالحکومت لوساکا رہا جبکہ دوسرے نمبر پر بھارت کا جنوبی شہر بنگلور اور ممبئی رہے۔

ایکنامک انٹیلی جنس یونٹ کا کہنا ہے کہ دنیا کے سب سے سستے دس شہروں میں سے پانچ کا تعلق بھارت اور پاکستان سے ہے۔

یہ ادارہ شہروں میں اخراجات کی درجہ بندی نیو یارک میں رہنے کی قیمت سے موازنہ کر کے کرتا ہے۔

اگر چہ سنہ 2015 میں سنگا پور سب سے مہنگا شہر رہا ہے لیکن جب اس کا موازنہ نیو یارک سے کیا گيا تو پتہ چلا کہ زندگی گزر بسر کرنے میں وہ نیو یارک سے دس فیصد سستا تھا۔ جبکہ ادارہ نے ایک برس قبل جو سروے کیا تھا اس کے نتائج مختلف تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سب سے سستا شہر زیمبیا کا دارالحکومت لوساکا رہا جبکہ دوسرے نمبر پر بھارت کا جنوبی شہر بنگلور اور ممبئی ر ہے

محقیقین کا کہنا ہے کہ ان شہروں کی درجہ بندی میں تبدیلیوں کی وجہ تیزی سے بدلتے معاشی حالات رہے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف شہروں میں امریکی ڈالر کی مضبوطی، مقامی کرنسی کے کمزور ہونے، تیل اور دیگر ایشا کی کی قیمتوں میں گراوٹ جیسے کئي عوامل اس پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

اس اقتصادی جائزے میں شامل مدیروں میں سے ایک جان کوپسٹوک نے کہا ’ہمیں نہیں یاد ہے کہ تقریباً 17 برس تک اس سروے پر کام کرنے کے دوران سنہ 2015 سے زیادہ کوئی غیر مستحکم برس رہا ہو۔‘

ان کا کہنا تھا ’عام اشیا کی قیمتیں گرنے سے جہاں بعض ممالک پر اقتصادی مندی کادباؤ پیدا ہوا وہیں دوسرے ممالک میں اسی کی وجہ سے کرنسی کمزر ہوگئی جس کے سبب افراط زر کی شرحوں میں زبردست اضافہ ہوا۔‘

اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کی رپورٹ دنیا بھر کے 133 شہروں کے سروے پر مبنی ہے جس میں روزمرہ کی اشیاء ضرورت ، بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات اور گھریلو ملازموں، نجی سکولوں اور ٹرانسپورٹ جیسی خدمات کی قیمتوں کی بنیاد پر ان شہروں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں