لڑائی کے بدلے میں عورتوں کا ریپ کرنے کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ کے مطابق یہ جنگجو مال مویشی اور لوگوں کی املاک بھی لوٹ لیتے ہیں

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی سوڈان کی فوج کی اتحادی ملیشیا میں جنگجوؤں کو لڑائی کے بدلے عورتوں کا ریپ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

تفتیش کاروں کو علم ہوا ہے کہ گذشتہ برس صرف تیل کی پیداوار والی یونیٹی سٹیٹ میں ہی کم سے کم 1300 عورتوں کا ریپ کیا گیا۔

جنوبی سوڈان کی فوج نے ’60 افراد کو دم گھونٹ کر مارا‘ ’سوڈان میں ریپ اور انسانی گوشت کھلانے کے واقعات‘

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ریپ کیے جا رہے ہیں جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

سوڈان کی حکومت نے فوجیوں کے ہاتھوں عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیق کی جا رہی ہے۔

صدر سلووا کیر کے ترجمان کا کہنا تھا ’ہمارے کچھ اصول ہیں جن پر ہم عمل کرتے ہیں۔‘

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ملیشیا ’جو کر سکتے ہو کرو جو حاصل کر سکتے ہو کر لو‘ کے اصول پر چل رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت وہ اپنی لڑائی کے بدلے میں معاوضہ کے طور پر عورتوں اور لڑکیوں کا اغوا اور ریپ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ جنگجو مال مویشی اور لوگوں کی املاک بھی لوٹ لیتے ہیں۔

جنوبی سوڈان میں جاری جنسی استحصال کے جرائم کی نوعیت اور شدت اسے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خوفناک پامالیوں میں شامل کرتی ہے۔

ایک عورت نے بتایا کہ اس کی 15 سالہ بیٹی کے شوہر کے مارے جانے کے بعد 10 فوجیوں نے اس کا ریپ کیا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشیا لڑکیوں کا اجتماعی ریپ کرتے ہیں اور شہریوں کو ٹکڑوں میں کاٹتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حزبِ اختلاف بھی جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔

ایک دوسری رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ کم سے کم 60 مرد اور لڑکے ایک کنٹینر میں دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔ انہیں وہاں حکومتی فورسز بے بند کیا ہوا تھا۔

تنظیم کے مطابق گذشتہ اکتوبر میں ان افراد کی ہلاکت کے بعد انھیں لیر نامی قصبے کے میدان میں دفن کر دیا گیا۔

سوڈان میں باغیوں اور حکومت نے اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے ڈر سے اگست میں ایک امن معاہدے پر اتفاق کیا تھا لیکن اب بھی وہاں قومی اتحاد کی حکومت کا قیام عمل میں نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں