کرسٹال دنیا کے معمر ترین شخص

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آوشوٹز کیمپ میں کرسٹال کی اہلیہ کو قتل کیا گیا

نازیوں کی جانب سے قائم کیے جانے والے اذیتی مرکز ’آؤشوٹز کیمپ‘ سے زندہ بچ جانے والوں میں ایک نام یسرائیل کرسٹال کا بھی ہے جنھیں اب گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے دنیا کے معمر ترین افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

معمر ترین مرد کا انتقال

وہ پولینڈ میں سنہ 1903 میں پیدا ہوئے تھے اور اسرائیل منتقل ہونے سے پہلے دنیا کی دو عظیم جنگوں کو دیکھ چکے تھے۔

گیارہ مارچ کو ان کی عمر 112 سال 178 دن ہوئی۔

کرسٹال سے قبل دنیا کے معمر ترین شخص کا اعزاز 112 سال 312 دن تک زندہ رہنے والے جاپانی یاسوتارو کوئڈی کے پاس تھا۔

دنیا کے معمر ترین شخص کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد کرسٹال نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ طویل ترین عمر کا راز کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا فیصلہ اوپر ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان سے زیادہ سمارٹ، طاقتور اور بہتر نظر آنے والے مرد آج زندہ نہیں ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو بھی کھو گیا ہے اسے دوبارہ بنانے کے لیے ہمیں سخت محنت سے کام کرنا چاہیے۔

کرسٹال کے والد ایک مذہبی سکالر تھے اور پہلی جنگِ عظمیم کے دوران وہ اپنے والدین سے بچھڑ گئے تھے۔ بعد میں وہ پولینڈ کے شہر لاڈز میں چلے گئے اور مٹھائیوں کا کاروبار کرنے لگے۔

جرمن نازیوں نے جب 1939 میں پولینڈ پر چڑھائی کی تو وہ اپنے خاندان کے ہمراہ لاڈز گیٹو منتقل ہوئے۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق اس کرسٹال کے دو بچوں کی وفات اسی جگہ ہوئی۔ پھر 1944 میں آؤشوٹز کیمپ میں منتقل کیا گیا۔ یہاں ان کی بیوی کو قتل کر دیا گیا جبکہ وہ قید کی زندگی بسر کرتے رہے۔

بعدازاں سنہ 1950 میں وہ اسرائیل منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے دوبارہ سے مھٹائی کا کاروبار شروع کیا۔

اسی بارے میں