’شام امن مذاکرات کے لیے پیشگی شرائط سے گریز کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جان کیری کا کہنا تھا کہ شام کی حکومت اور اس کے حامی جنگی اقدامات اور کارروائیاں روکنے کے معاہدے کی حدود کو آزمانے سے گریز کریں

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی تبدیلی کی ضرورت کو تسلیم کرے اور ملک میں قیامِ امن کے لیے جاری مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہ کرے۔

انھوں نے یہ بات اتوار کو مغربی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد کہی۔

سنیچر کو شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے کہا تھا کہ شام کی حکومت کا وفد پیر سے سوئس شہر جنیوا میں شروع ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے جائے گا لیکن ان مذاکرات میں شام میں صدارتی انتخاب پر بات نہیں ہوگی۔

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’تمام فریقوں کو ان حقیقی مذاکرات کی حمایت کرنی چاہیے جن کا مقصد 2012 کے اعلانِ جنیوا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے مطابق شام میں سیاسی تبدیلی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام کی حکومت اور اس کے حامی ’جنگی اقدامات اور کارروائیاں روکنے‘ کی حدود کو آزمانے سے گریز کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption شامی وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے سنیچر کو کہا تھا کہ شام کے صدر کا فیصلہ کرنا صرف شامی عوام کا حق ہے

جرمن، فرانسیسی اور برطانوی وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد جان کیری نے کہا کہ ’جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ بننے والے سب فریق اس کی پابندی کریں اور انھیں امداد کی فراہمی کے عمل میں بھی تعاون کرنا چاہیے۔‘

امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام اندازوں اور پیشنگوئیوں کے برعکس کا معاہدہ دو ہفتے تک لڑائی روکنے میں کامیابی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ کچھ مقامات پر کشیدگی ہے لیکن پھر بھی ہم تشدد کی شرح میں 80 سے 90 فیصد کمی لانے میں کامیاب رہے ہیں۔‘

شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ سٹافن ڈی میستورا چاہتے ہیں کہ شام میں آئندہ ڈیڑھ برس میں صدارتی الیکشن منعقد ہو لیکن شامی حکومت نے اس خیال کو رد کر دیا ہے۔

سنیچر کو شامی وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے کہا تھا کہ شام کے صدر کا فیصلہ کرنا صرف شامی عوام کا کام ہے۔ ’ان کے علاوہ نہ وہ (سٹافن میستورا) یا کوئی اور یہ حق رکھتا ہے کہ وہ صدارتی الیکشن کے بارے میں بات کرے۔ یہ حق صرف شام کے عوام کے لیے مخصوص ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام کے تنازع کی وجہ سے بےگھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے جن میں سے 40 لاکھ کو دوسرے ممالک میں پناہ لینا پڑی ہے

انھوں نے شام میں حزبِ اختلاف کی جانب سے مکمل ایگزیکیٹو اختیارات کی حامل عبوری حکومت کے مطالبے کو بھی ’سرخ لکیر‘ سے تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ یہ خیال پیش کرنے والے ہیں تو بہتر ہے کہ مذاکرات کے لیے تشریف ہی نہ لائیں۔

خیال رہے کہ شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ شامی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس تنازع کی وجہ سے بےگھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے جن میں سے 40 لاکھ کو دوسرے ممالک میں پناہ لینا پڑی ہے۔

اسی بارے میں