جاپان میں سیاحت کے فروغ کے لیے’ننجاز‘ درکار

Image caption نوکری حاصل کرنے والے ننجاز کو ماہانہ تقریباً سولہ سو امریکی ڈالر کے مساوی تنخواہ دی جائے گی

جاپان میں حکام نے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے روایتی مارشل آرٹس کے ماہر ’ننجا‘ بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں تشہیری مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔

جاپانی صوبے آچے کے حکام چاہتے ہیں کہ یہ ننجاز سیاحوں کو اپنے کرتبوں سے محظوظ کرنے کے علاوہ ان کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔

منتخب افراد کو اس خدمات کے عوض ماہانہ تقریباً 1600 امریکی ڈالر کے مساوی رقم ادا کی جائے گی۔

ملک میں سیاحت کو فرغ دینے والے ادارے سے منسلک ایک اہلکار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ ہمیں ایسے ننجاز کی تلاش ہے جو اپنی تمام تر خفیہ صلاحیتوں کے باوجود سب کی نظروں میں رہنا پسند کریں۔‘

حکام کے مطابق غیرملکی افراد بھی اس نوکری کے لیے درخواست دے سکتے ہیں لیکن تاریخ اور سیاحت میں ان کی دلچسپی ضروری ہے۔

اس نوکری کے لیے رواں ماہ 22 تاریخ تک درخواستیں جمع کروائی جاسکتی ہیں جس کے بعد منتخب ہونے والے افراد کو ایک ماہ کی تربیت دی جائے گی۔

اگرچہ اس نوکری کے لیے دنیا کو کوئی بھی شخص دراخوست دے سکتا ہے لیکن اس کی عمر 18 سال سے زیادہ ہونا لازمی ہے۔

ننجاز بھرتی کرنے کی یہ مہم جاپانی حکومت کی جانب سے ملک میں سیاحت کے ذریعے اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں جاپان میں ننجاز مارشل آرٹس کی ماہر وہ نقاب پوش پراسرار شخصیات ہوا کرتی تھیں جو خفیہ معلومات جمع کرنے اور ملک کے دشمنوں کی خفیہ طریقے سے ہلاک کرنے کی ذمہ دار ہوتی تھیں۔

ننجاز سیاہ کپڑے پہنا کرتے تھے، ان کا پورا جسم ڈھکا ہوا ہوتا تھا اور صرف آنکھیں ہی نمایاں نظر آتی تھیں۔

یہ افراد نوک دار اور ستاروں کی شکل کے پھینک کر مارنے والے تیز ہتھیاروں کا استعمال کرتے تھے۔

اسی بارے میں