النصرہ فرنٹ کا شامی باغی گروپ کے ٹھکانوں پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ اور روس کے تعاون سے گزشتہ ماہ شام میں جنگ بندی کا عبوری معاہدہ طے پایا تھا

شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے القاعدہ سے منسلک شدت پسند گروپ النصرہ فرنٹ نے صوبہ ادلب میں مغرب کے حمایت یافتہ باغی گروہ پر حملہ کیا ہے۔

فری سیئرین آرمی کے پرچم تلے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف برسریپکار باغی گروہ ڈویژن 13 کے بقول مرات النعمن نامی شہر میں واقع اس کے دفاتر پر النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں نے حملہ کر کے اسلحہ لوٹ لیا ہے۔

النصرہ فرنٹ ماضی میں بھی دیگر باغی گروہوں کے ساتھ لڑتا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شہر میں حکومت مخالف ریلی النصرہ فرنٹ کے خلاف احتجاج میں بدل گئی جس کے بعد دونوں گروہوں میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

خیال رہے کہ القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ نے دیگر باغی گروہوں کے شانہ بشانہ لڑکر صوبہ ادلب پر قبضہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

عالمی طاقتوں بشمول امریکہ اور روس کے تعاون سے گزشتہ ماہ شام میں جنگ بندی کا عبوری معاہدہ طے پایا تھا۔

اس عبوری جنگ بندی کے معاہدے کے تحت سرکاری فوج اور سو کے قریب باغی گروہوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا تاہم اس معاہدے کا اطلاق دولت اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلک النصرۃ فرنٹ جیسی شدت پسند تنظیموں پر نہیں ہوتا۔

خیال رہے کہ شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ شامی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بےگھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے جن میں سے 40 لاکھ کو دوسرے ممالک میں پناہ لینا پڑی ہے۔

اسی بارے میں