امریکہ نے شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نئی پابندیوں اطلاق شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں ہائیڈروجن بم اور میزائل کے تجربات کے بعد کیا گیا ہے

شمالی کوریا کے حالیہ جوہری اور میزائل تجربے کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

ان کے تحت امریکہ میں شمالی کوریا کی حکومت کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی اشیا کی شمالی کوریا برآمد یا امریکیوں کی جانب سے شمالی کوریا میں سرمایہ کاری پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

صدارتی حکم نامے کے مطابق امریکی حکومت شمالی کوریا کی معیشت کے ساتھ کام کرنے والے امریکی اور غیرامریکی افراد کو بلیک لسٹ کرسکتی ہے۔

امریکہ کی جانب سے ان نئی پابندیوں کا اطلاق شمالی کوریا کی جانب سے چھ جنوری کو ہائیڈروجن بم اور پھر سات فروری کو طویل فاصلے تک جانے والے میزائل کے تجربات کے بعد کیا گیا ہے۔

براک اوباما نے پابندیوں کے حکم نامے پر دستخط کرنے کے بعد کہا ہے کہ ان کا ’ہدف شمالی کوریا کے عوام نہیں ہیں‘۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور دنیا شمالی کوریا کی غیرقانونی جوہری سرگرمیوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔

اوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ پابندیاں شمالی کوریا کی حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کے طویل المدت عزم سے مطابقت رکھتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی صدر براک اوباما نے صدارتی حکم نامے پر دستخط کے ذریعے نئی پابندیوں کا اطلاق کیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اور عالمی دنیا شمالی کوریا کی غیرقانونی جوہری اور بیلسٹک میزائل سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گی، اور ہم شمالی کوریا پر اس کی قیمت عائد کرتے رہیں گے جب تک وہ بین الاقوامی اصولوں کے اطاعت نہیں کرتا۔‘

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے گذشتہ جنوری میں جوہری تجربہ کیا تھا جس کے جواب میں رواں ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر نئی سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اتفاق رائے سے پابندیوں سے متعلق قرارداد کو منظور کیا تھا جس میں شمالی کوریا پر نئی جامع عالمی پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔

اس سے قبل امریکہ 19 فروری کو امریکہ کی جانب شمالی کوریا پر نئی پابندیاں لگانے کے بل پر صدر اوباما نے دستخط کیے تھے جن ایسے افراد کو نشانہ بنایا گیاتھا جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تجارت یا اُس کے لیے مالی معاونت فراہم کریں، شمالی کوریا کے راکٹ پروگرام سے وابستہ ہوں، اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہوں۔

اسی بارے میں