ناروے میں ’جیل کی ہوا‘ خوشگوار

Image caption اس جیل کا ایک منظر جس کے بارے میں کئی افراد کے قاتل انریش بریوک کو شکایت ہے

ناروے کی ایک جیل میں قید کئی افراد کے قاتل انریش بریوک کو شکایت ہے کہ جیل میں ان کے انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے، لیکن کئی غیرملکیوں کا کہنا ہے کہ ناروے کی جیلوں میں قید کے دن پرآسائش زندگی سے کم نہیں۔

درج ذیل مضمون میں لارس بیونگر نے ناروے کی ان جیلوں کا جائزہ لیا جنھیں ایک امریکی سیاح نے جنت سے تعبیر کیا تھا۔

ناروے میں دو جیلیں ایسی ہی جو مسلسل اس مقابلے میں ہیں کون سی جیل زیادہ ’عمدہ‘ اور سب سے زیادہ ’انسان دوست‘ ہے۔

دارالحکومت اوسلو سے جنوب میں واقع باستوئی کی جیل میں قید لوگوں کو پرسکون دیہاتی ماحول میں گھومنے پھرنے کی پوری آزادی ہے جہاں وہ چاہیں تو جانوروں کی دیکھ بھال بھی کر سکتے ہیں۔ یہاں قیدی برف پر سکیئنگ کرتے ہیں، ٹینس کھیلتے ہیں اور شام کو تاش بھی کھیلتے ہیں۔

ان قیدیوں کا نہ صرف اپنا ساحل سمندر بھی ہے، بلکہ ان کے پاس ایک چھوٹا بحری جہاز بھی ہے جسے وہ عام مسافروں کے لیے اپنے ساحل اور دوسرے ساحل کے درمیان چلاتے ہیں۔

شام کو جب جیل کا زیادہ تر عملہ اپنے گھروں کو لوٹ جاتا ہے تو وہاں 115 قیدیوں کی نگرانی کے لیے مٹھی بھر سنتری ہی باقی بچتے ہیں۔

Image caption باستوئی کی جیل میں قید لوگوں کو پرسکون دیہاتی ماحول میں گھومنے پھرنے کی پوری آزادی ہے

جیل کے گورنر ٹام ایبرہارٹ کہتے ہیں کہ ہم یہاں قیدیوں کو راہ راست پر لانے کے لیے اس اصول پر کام کرتے ہیں جسے آپ ’معمول کا اصول‘ کہہ سکتے ہیں۔

ہمارے خیال میں ’جہاں تک ممکن ہو، جیل کی زندگی معمول کی زندگی سے مختلف نہیں ہونی چاہیے۔‘

باستوئی کی جیل کے علاوہ ناروے کی دوسری جیل، جسے دیکھ کر غیر ملکی حیران رہ جاتے ہیں، وہ بھی جنوبی ناروے میں سویڈن کی سرحد کے قریب واقع قصبے ہالڈن کی جیل ہے۔

سنہ 2014 میں فِن لینڈ کے ایک ٹی وی چینل والے امریکی جیلوں کے ریٹائرڈ سربراہ جیمز کانوے کو یہ جیل دکھانے لائے تھے۔ اس وقت جیمز کانوے نے کہا تھا کہ ’میرا نہیں خیال کہ آپ قیدیوں کواس سے زیادہ آزادی دے سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ آپ جیل کی چابیاں بھی قیدیوں کے حوالے کر دیں۔‘

Image caption یہ جیل کسی خیالی جنت سے کم نہیں: امریکی ماہرِ جیلخانہ جات

جیمز کانوے نے جیل کے دورے کا آغاز اس کے باورچی خانے میں رکھے ہوئے سٹیل کے چمچوں اور کانٹوں سے کیا تھا، جس کے بعد وہ جیل کے اندر موجود اس ورکشاپ کو دیکھنے گئے تھے جہاں قیدیوں کے استعمال اور ان کی تربیت کے لیے قسم قسم کی آریاں، پلاس اور لکڑی اور دھات کے طرح طرح کے اوزار موجود تھے۔

چمچوں اور چھوٹے چھوٹے اوزاروں کی بھرمار دیکھ کر حیران امریکی سیاح یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’کیا آپ نے اتنی اچھی اچھی چیزیں کیکوں میں ڈالنے کے لیے رکھی ہوئی ہیں؟‘

ورکشاپ کے بعد جیل کے اندر قیدیوں کی تفریح کے لیے موجود ’میوزک سٹوڈیو‘ میں کئی قسموں کے گِٹار، ڈرم (ڈھول) اور میوزک کی مِکسنگ کے لیے استعمال ہونے والے ڈیک دیکھ کر جیمز کانوے مزید حیران ہوئے اور پوچھا ’ موسیقی کا سامان کچھ ضرورت سے زیادہ نہیں ہو گیا؟‘

’یہ جیل کسی خیالی جنت سے کم نہیں۔ یہ جیل تو آپ کے تصور سے بھی زیادہ پرآسائش ہے۔‘

اگرچہ ہالڈن کی جیل ناروے کی وہ جیل ہے جہاں سب سے زیادہ خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا ہے اور اس کے ارد گرد اونچی اونچی دیواریں بھی ہیں، لیکن ہم اسے ناروے کی نمائندہ جیل بہرحال نہیں کہہ سکتے۔

Image caption حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ مجرموں کو آہستہ آہستہ معمول کی زندگی کی جانب لایا جائے

ان دونوں جیلوں کے برعکس ناروے کی دیگر جیلیں ایسی ہیں جنھیں دیکھنے والا کم از کم جیل تو کہہ سکتا ہے۔ ان جیلوں کی کھڑکیوں میں سلاخیں لگی ہوتی ہیں اور قیدیوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے کمروں سے صرف اسی وقت باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے جب قیدیوں کی اجتماعی سرگرمیوں کا وقت ہوتا ہے۔

ناروے کے قیدیوں کی تصحیح یا بحالی کے قومی ادارے کے سربراہ یاں ایرک سینڈی کہتے ہیں کہ ناروے میں ’زیادہ تر مجرم اپنی قید کا آغاز ہائی سکیورٹی والی جیلوں میں کرتے ہیں۔ اس کے بعد قیدیوں کی بحالی کا ادارہ یہ دیکھتا ہے کہ آیا کسی قیدی کو کم سکیورٹی والی جیل میں منقتل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ مجرموں کو آہستہ آہستہ معمول کی شریفانہ زندگی کی جانب لایا جائے۔‘

’اسی لیے اکثر قیدیوں کی مدت قید کے آخری عرصے میں انھیں ایسی جیلوں میں رکھا جاتا ہے جن کا ماحول ان کے گھروں کے ماحول سے قریب تر ہوتا ہے۔‘

یاں ایرک سینڈی کامزید کہنا تھا کہ قید کے آخری حصے میں قیدیوں کو ان کے گھر بھی لے جایا جاتا ہے اور اس حکمت عملی کا مرکزی ہدف یہ ہوتا ہے کہ جلد از جلد قیدی کو رہائی کے بعد کی معمول کی زندگی کے لیے تیار کیا جائے۔

اسی بارے میں