امریکی امیدواروں کو کون رقوم دے رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ

امریکی انتخابات میں پیسے کا استعمال ایک ایشو بن چکا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے صدراتی امیدوار بننے کے خواہشمند برنی سینڈرز انتخابات میں بڑی رقوم کے استعمال کو روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مہم اپنی دولت سے چلا رہے ہیں۔

امریکی قوانین کے تحت ہر امیدوار پر لازم ہے کہ وہ انتخابی مہم کے لیے ملنے والے عطیات کی تمام معلومات فیڈرل الیکشن کمیشن کو مہیا کرے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ کون کس کو کیا مہیا کر رہا ہے۔

فیڈرل الیکشن کمیشن کو مہیا کی جانے والی معلومات میں ’آزادانہ اخراجات‘ شامل نہیں ہیں اور انھیں انتخابی مہم سے باہر رکھنا ضروری ہے۔

قوانین کے تحت کوئی شخص کسی صدارتی امیدوار کو 2700 ڈالر سےزیادہ عطیہ دینے کا مجاز نہیں ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون افراد، گروہ اور کاروباری ادارے مستقبل کے صدر پر اپنا اثر رکھنے کے لیے پیسے کا استعمال کر رہے ہیں۔

ہلیری کلنٹن

تصویر کے کاپی رائٹ

ہلیری کلنٹن نے ابھی تک اپنی مہم کے لیے 13 کروڑ ڈالراکٹھے کیے ہیں۔ انھیں یہ رقوم کہاں سےملی ہیں؟

ہلیری کلنٹن کے حریف برنی سینڈرز سیاست پر وال سٹریٹ کے اثر و رسوخ سے سخت نالاں ہیں۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ ہلیری کلنٹن کو بڑے بڑے بینکوں سے عطیات مل رہے ہیں۔

یہ بات صحیح ہے کہ ہلیری کلنٹن کو بینکوں سے عطیات ملے ہیں لیکن انھیں سب سے زیادہ عطیات قانونی فرموں سے ملے ہیں۔ وکلا اور لا فرموں نے ہلری کلنٹن کو 1.1 کروڑ ڈالر کے عطیات دیے ہیں۔ اس کے مقابلے میں انھیں بینکوں سے صرف 40 لاکھ ڈالر ملے ہیں۔

ہلیری کلنٹن ان امیدواروں میں سے ہیں جو کہتی ہیں کہ متوازی بینکاری ایک مسئلہ ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ متوازی بینکاری ملک کو ایک اور مالی بحران کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اگر وہ صدر بن جاتی ہیں اور ان بینکوں میں اصلاحات کے اپنے وعدے پر عمل کرتی ہیں تو ان بینکوں کو مزید وکلا کی ضرورت پڑے گی جس سے وکلا کا فائدہ ہوگا۔

برنی سینڈرز

تصویر کے کاپی رائٹ

برنی سینڈرز نے ابھی تک اپنی مہم کے لیے 9.6 کروڑ ڈالراکٹھے کیے ہیں۔ برنی سینڈرز نے بڑے کئی کاروباروں کی جانب سے دیے گئے عطیات لینے سے انکار کیا ہے۔ انھوں نے اس دوا ساز کمپنی سے عطیہ لینے سے انکار جو اپنی ایک دوا کی قیمت پانچ ہزار فیصد بڑھانے کی وجہ سے بدنام ہو چکی ہے۔ برنی سینڈرز کو سب سے زیادہ عطیات عام لوگوں نے دیے ہیں۔

برنی سینڈرز کے ایک تہائی عطیات 200 ڈالر سے کم ہیں جبکہ ان کی ڈیموکریٹ حریف ہلیری کلنٹن کو ملنے عطیات میں 17 فیصد ایسے ہیں جو 200 ڈالر سے کم ہیں۔ برنی سینڈرز کو امریکہ کے بے روزگار لوگوں کی جانب سے 1.4 کروڑ ڈالر عطیات ہیں جو کسی اور امیدوار کے حصے میں نہیں آئے۔

برنی سینڈرز کا موقف ہے کہ وہ بیمار معیشت کو درست کرنے کے لیے ایسے لوگوں سے مدد نہیں لے سکتے جو اس بیماری کا سبب ہیں۔ برنی سینڈرز کا موقف ہے کہ وال سٹریٹ سے پیسے لے کر انتخابی مہم چلانے کے بعد وہ صدر بن کر یہ تاثر نہیں دے سکتے کہ کاروباری حضرات کا ان پر کوئی اثرو رسوخ نہیں ہے۔

ٹیڈ کروز

تصویر کے کاپی رائٹ

سپر ٹیوز ڈے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریپلکن امیدوار ٹیڈکروز نے ابھی تک اپنی انتخابی مہم کے لیے 5.4 کروڑ ڈالر اکٹھے کیے ہیں۔

ٹیڈ کروز کو سب سے زیادہ عطیات ریاست ٹیکسس سے ملے ہیں جو ان کے مکمل عطیات کا 43 فیصد ہے۔

ان کو عطیات دینے والے میں ٹیکسس کے بڑے کاروبار، تیل اور گیس کی کمپنیوں کے علاوہ بڑے زرعی ادارے بھی شامل ہیں۔ ٹیڈ کروز کو سب سے زیادہ عطیات ولکس برادر نے دیے ہیں۔ ولکس بھائیوں نے فریکنگ کے کاروبار سے خوب دولت کمائی ہے۔

ولکس بھائیوں نے ابھی تک ٹیڈ کروز کی انتخابی مہم کے لیے 59 ہزار ڈالر دینے کے علاوہ ان کی سپر ٹیوز ڈے کے انتظامات کرنے والے کمپنی کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر ادا کیے ہیں۔ ٹیڈ کروز کو عطیات دینے والی تنظیموں میں یو ایس پوسٹل سروس بھی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ

تصویر کے کاپی رائٹ

رپبلکن پارٹی کے امیدوار بننے کے خواہشمند ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک 2.6 کروڑ ڈالراکٹھے کیے ہیں اور ان کو عطیات دینے والوں کی اکثریت پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہے۔

اس کے علاوہ ٹرمپ کو اپنی شخصیت اور متنازع بیانات کی وجہ سے ایسے فوائد بھی ملے ہیں جو دوسرے امیدواروں کے حصہ میں نہیں آئے۔ انھیں اپنے بیانات کی وجہ سےذرائع ابلاغ میں اتنی جگہ ملی ہے کہ انھیں اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے اشہتاروں پر رقم خرچ نہیں کرنی پڑی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بھی فائدہ ہے کہ وہ اپنی مہم کے لیے اپنی جیپ سے رقم خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ قرض لیتے ہیں جو یا تو ان کی انتخابی مہم کو یا پھر انھیں ذاتی طور پر واپس کرنا ہو گا۔ البتہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انھوں نے ابھی تک سوا لاکھ ڈالر ہی اپنی جیپ سے خرچ کیے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو انفرادی طور پر ملنے والے عطیات میں چھوٹے عطیات کی تعداد زیادہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ انھیں عوامی سطح پر بھی حمایت حاصل ہے۔

مارکو روبیو

تصویر کے کاپی رائٹ

مارکو روبیو جو اپنی ریاست میں ہونے والے پرائمری میں شکست کے بعد صدارتی امیدواروں کی دوڑ کو چھوڑ چکے ہیں، انھیں 3.4 کروڑ ڈالر کے عطیات ملے۔ مارکو روبیو کو ملنے والے عطیات بڑے کاروباروں سے عطیات ملے ہیں۔

حیران کن انکشافات

انفرادی عطیات دینے میں ریٹائر لوگ سب سے آگے ہیں۔ ریٹائرڈ لوگوں کی سب سے پسندیدہ امیدوار ہلری کلنٹن ہیں۔ ہلری کلنٹن کو ریٹائرڈ لوگوں سے 1.2 کروڑ ڈالر ملے ہیں جبکہ بین کارسن کو نو ملین اور ٹیڈ کروز کو 70 لاکھ ڈالر عطیات ریٹائرڈ لوگوں کی طرف سے ملے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ ریٹائرڈ لوگوں کے پسندیدہ نہیں ہیں اور انھیں سب سے کم 43 ہزار ڈالر ملے ہیں۔

برنی سینڈرز یوگا انسٹرکٹروں میں سب سے زیادہ مقبول ہیں اور انھیں 209 یوگا انسٹرکٹروں کی جانب سے جبکہ ہلیری کلنٹن کو 73 یوگا انسٹرکٹروں نے عطیات دیے ہیں۔

اسی بارے میں