کون ٹکی مہم کی دوبارہ کوشش ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چلی کی بحریہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشتیاں پورٹو مونٹ شہر کے مغرب میں 16 سو کلومیٹر دور چلی گئیں تھیں

چلی کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’کون ٹکی‘ مہم میں شامل دو کشتوں سے 14 لوگوں کو بہ حفاظت نکال لیا ہے۔

اس مہم کو نومبر میں 1947 کہ مشہور مہم ’ کون ٹکی‘ کی طرز کے سمندری سفر کی نقل میں چلی کے دارالحکومت پیرو سے شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد بحر الکاہل کو پیرو سے چلی کے ایسٹر جزیرے تک درختوں کے تنے سے بنی ہوئی کشتیوں میں عبور کرکے واپس پیرو آنا تھا۔

’کون ٹکی ٹو‘ نامی اس مہم میں شامل کشتیاں 43 دنوں میں چلی کے ایسٹر جزیرے پر پہنچ گئیں تھیں، لیکن واپسی میں غیر معمولی طوفانی سمندری ہواؤں کے باعث مہم کے منتطمین کو منزل پر پہنچنے سے قبل ہی سفر کو ختم کرنا پڑا۔

چلی کی حکومت کا کہنا ہے کہ حفاطتی عملے کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔

کشتیوں نے جنوری میں واپسی کے سفر کے لیے چلی کا رخ کرلیا تھا لیکن طوفانی لہروں نے ان کو راستے سے ہٹادیا۔

چلی کی بحریہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشتیاں پورٹو مونٹ شہر کے مغرب میں 16 سو کلومیٹر دور چلی گئیں تھیں۔

مہم کے عملے نے پریشان کن حالات کے پیش نظر بدھ کو مدد حاصل کرنے کے اشارے دیے تھے۔

مہم کے سربراہ ٹورگیر ہگراف نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ ان حالات میں جنوبی امریکہ پہچنا ایک مشکل امر ہوگا اس لیے ہم نے کشتی میں سوار تمام لوگوں کی حفاطت کے لیے اسے راستے میں ہی خالی کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

انھوں نے اپنے سفر کی ناکامی کا ذمہ دار ایل نینو کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیرمعمولی موسمی تبدیلیوں کو ٹھہرایا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’عام حالات میں ہم اب تک جنوبی امریکہ پہنچ چکے ہوتے لیکن موسم کی وجہ سے ہم ابھی تک خشکی سے 900 ناٹیکل میل دور ہیں اور موسم کی پیش گوئیاں بھی سازگار نہیں ہیں۔‘

کشتی پر سوار کچھ عملہ آب و ہوا کی تبدیلی، مائیکرو پلاسٹک آلودگی، اور ایل نینو کے موسمی اثرات سے متاثر بھی ہوئے ہیں۔

سنہ 1947 میں کون ٹکی مہم کے پہلے سفر میں ناروے سے تعلق رکھنے والی ایک ٹیم درختوں کے تنے سے بنی ہوئی کشتیوں پر بحر الکاہل عبور کر چکی ہے۔

تھور ہیرڈال کی قیادت میں کیے جانے والے اس سفر کو بیسویں صدی کی عظیم مہمات میں شمار کیا جاتا ہے۔

حالانکہ اس زمانےمیں یہ ایک ناممکن بات لگتی تھی، لیکن انھوں نے ثابت کر دکھایا تھا کہ پیرو سے پولینیسیا کا سفر تنوں سے بنی ہوئی کشتی پر بھی کیا جاسکتا ہے۔