آسٹریلیا: سینٹ اراکین کو منتخب کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وزیر خزانہ میتھیئس کورمین کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے صرف رائے دہندگان کو فائدہ پہنچے گا

آسٹریلیا کی سینیٹ نے28 گھنٹے جاری رہنے والی بحث کے بعد اراکین کو منتخب کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کا قانون منظور کرلیا ہے۔

مذکورہ اصلاحات کے بعد ان چھوٹی جماعتوں کی حوصلہ شکنی ہوگی جو ماضی میں سینیٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔

قدامت پسند حکمراں جماعت، گرین پارٹی کے ساتھ غیر متوقع شراکت داری میں یہ سیاسی اصلاحات منظور کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

پوری رات جاری رہنے والی بحث کا مقصد رائے دہندگان کو ان کی ترجیحات کے حساب سے حق رائے دہی کے لیے مزید اختیارات دینے کے لیے قانون سازی کرنا تھا۔ اس دوران حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر کے سینیٹرز اس عمل کو غیر ضروری طول دینے کی غرض سے موضوع سے ہٹ کر گفتگو کرتے رہے۔

آخر کار قانون 24 کے مقابلے میں 36 ووٹوں سے پاس ہوا۔

آسٹریلیا کے رائے دہنگان کی ترجیحات کی تقسیم کے پیچیدہ نظام کے باعث وہ چھوٹی جماعتیں بھی سینیٹ میں سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی تھیں جنھیں انتخابات کے پہلے مرحلے میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملتی تھی۔

گذشتہ انتخابات میں کئی چھوٹی جماعتوں سےتعلق رکھنے والے افراد سینیٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے جن میں موٹرنگ انتھیوزیئسٹ جماعت کے رکی موئر اور رگبی لیگ کے سابق فٹبالر گلین لزاروس بھی شامل ہیں۔

ان سینیٹرز کی جانب سے قانون سازی کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے باعث حکومت کو شدید پریشانی کا سامنا رہا ہے۔ ان کی سینیٹ میں موجودگی نے گرین جماعت کو بھی متاثر کیا ہے جس کے باعث ایوان بالا میں طاقت کا توازن ان کے حق میں نہیں ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے اس اقدام سے رائے دہندگان کے اختیارات میں اضافہ ہوگا اور خفیہ معاہدوں کا تدارک ہوگا۔

وزیر خزانہ میتھیئس کورمین کا کہنا ہے کہ ’ان اصلاحات سے صرف رائے دہندگان کو فائدہ پہنچے گا۔‘

اسی بارے میں