ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین نے سڑک مسدود کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Vladimir Kozlovskiy

امریکی ریاست ایریزونا میں مظاہرین نے اس وقت سڑک مسدود کر دی جب صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ فینکس شہر کے قریب ایک جلسے سے خطاب کرنے والے تھے۔

50 کے قریب مظاہرین نے سڑک مسدود کر کے ٹریفک میں خلل ڈالا۔ انھوں نے ہاتھوں میں پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا: Dump Trump

کاروباری شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ رپبلکن جماعت کی جانب سے صدارتی امیدواری کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان کے جلسوں میں اکثر نظم و ضبط کے مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے شکاگو میں ایک اجلاس احتجاج کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا۔ سینکڑوں مظاہرین یونیورسٹی آف شکاگو میں جمع ہو گئے تھے اور اس ہال میں جہاں ٹرمپ تقریر کرنے والے تھے، ان کے حامیوں اور مخالفین میں ہاتھا پائی شروع ہو گئی تھی۔

ایریزونا کے مظاہرین نے ٹرمپ کے جلسے کی طرف جانے والی سڑک پر چلنا شروع کر دیا۔ پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔

بغص مظاہرین جلسے کے مقام فاؤنٹین پارک کے قریب پہنچ گئے، تاہم وہاں ٹرمپ کے حامی کہیں زیادہ بڑی تعداد میں موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Vladimir Kozlovskiy

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے مظاہرین کو ’شرمناک‘ کہتے ہوئے انھیں اپنی حریف ڈیموکریٹک پارٹی کی ہلیری کلنٹن کے ’نمائندے‘ قرار دیا۔

دوسری جانب ٹرمپ کے اپنے شہر نیویارک میں سینکڑوں لوگوں نے مین ہیٹن میں ٹرمپ ٹاور کے باہر مظاہرہ کیا۔ بعض مظاہرین نے ان کے خلاف نعرے لگائے جن میں ان پر نسل پرستی، صنفی تعصب اور ہم جنس پرستوں کا مخالف ہونے کا الزام عائد کیا۔

تاہم بعض مظاہرین نے ’ٹرمپ کو ووٹ دیں،‘ کے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ کی حمایت کے اپنے حق کا استعمال کر رہے ہیں۔