یورپ بددیانتی کا مرتکب ہو رہا ہے: ایمنیسٹی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہزاروں پناہ گزین ترکی اور مقدونیہ کی سرحد پر یورپ میں داخلے کے منتظر ہیں

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے پناہ گزینوں کو واپس ترکی بھیجنے کے معاہدے پر یورپی رہنماؤں پر ’بددیانتی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

ادارے نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ یورپی یونین کی جانب سے ’پناہ گزینوں کے بحران سے منھ موڑنے کی سرگرم کوشش‘ کے مترادف ہے۔

اس منصوبے کے تحت یونان پہنچنے والے مہاجرین اگر پناہ کے لیے درخواست نہ دیں یا ان کی درخواست نامنظور ہو جائے تو انھیں واپس ترکی بھیج دیا جائے گا۔

اس کے بدلے میں ترکی کو امداد اور سیاسی مراعات دی جائیں گی۔

اس کے علاوہ معاہدے کے تحت یونانی حکام پناہ کی درخواستوں پر فرداً فرداً غور کریں گے۔

تاہم شامی شہریوں سمیت بہت سے پناہ گزین جرمنی اور شمالی یورپ کے دوسرے ممالک جانا چاہتے ہیں، اور یونان میں پناہ کی درخواست دینے سے کتراتے ہیں۔

معاہدے کے مطابق ہر شامی جسے ترکی واپس بھیجا جائے گا، اس کے عوض ترکی میں پہلے سے موجود ایک شامی کو یورپی یونین میں بسایا جائے گا۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے یورپ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جان ڈیلہوئسن نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے بین الاقوامی اور یورپی یونین کے قانون کی پاسداری کے لیے کیے جانے والے وعدے ’زہریلی گولیوں کے اوپر چینی کی تہہ کی مانند ہیں جنھیں یورپ میں پناہ کے متلاشیوں کے حلق میں ٹھونسا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے وعدے اتوار کے روز یونانی جزیروں پر پہنچنے والے پناہ گزینوں کی ترکی واپسی سے متصادم ہیں۔‘

اسی بارے میں