کیوبا کی خاتون کے نام اوباما کا خط

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption الینا یرزا نے صدر اوباما کو ہوانا میں اپنے گھر کافی کے لیے مدعو کیا ہے

کیوبا اور امریکہ کے درمیان 50 برس بعد براہ راست ڈاک رابطہ قائم ہو گیا ہے۔ ایک خاتون نے امریکی صدر اوباما کو کیوبا میں اپنے گھر مدعو کیا تھا جس کا جواب انھیں صدر کی جانب سے ملا ہے۔

76 سالہ الینا یرزا نے صدر اوباما کو فروری میں ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے ہونا میں اپنے گھر میں ’ایک پیالی کیوبن کافی‘ کے لیے صدر کو مدعو کیا تھا۔

بدھ کو صدر نے اس کا جواب ارسال کیا جس میں انھوں نے مز یرزا کا شکریہ ادا کیا ہے۔

یہ خط گذشتہ 50 سال میں امریکہ سے کیوبا پہنچنے والے خطوط کے پہلے بنڈل میں شامل تھا۔

سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست ڈاک کا نظام معطل کر دیا گیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان خط و کتاب دوسرے ممالک بطور خاص میکسیکو یا کینیڈا کے ذریعے ہوتی تھی۔

مز یرزا نے جب یہ سنا کہ امریکی صدر مارچ کے مہینے میں کیوبا کا دورہ کرنے والے ہیں تو انھوں نے 18 فروری کو ان کے نام ایک خط ارسال کیا جس میں لکھا تھا کہ ’کیوبا میں میں آپ سے ملنے کی جتنی مشتاق ہوں شاید کم ہی لوگ اتنے مشتاق ہوں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ خط کیوبا اور امریکہ کے درمیان براہ راست ڈاک رابطے کی بحالی کے پہلے بنڈل میں شامل تھا

صدر نے مز یرزا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ خط دونوں ممالک کے درمیان روشن مستقبل کے ایک نئے باب کی یاد دہانی کراتا ہے۔‘

انھوں نے ایک کپ کافی پینے کی بات کو مسترد نہیں کیا اور لکھا کہ انھیں امید ہے کہ انھیں کافی پینے کا موقع مل سکے گا۔

مز یرزا نے خبررساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے صدر اوباما کی پہلی صدارتی مہم کے بعد سے انھیں چار پانچ بار خط لکھا ہے اور ان کا جواب ان کے لیے ’خوش کن اور حیرت انگیز‘ تھا۔

گذشتہ سال 2015 کے دسمبر میں امریکہ اور کیوبا نے دونوں ممالک کے درمیان ڈاک سروس بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ یہ فیصلہ صدر اوباما اور راؤل کاسترو کی جانب سے دونوں ممالک کے رشتوں کو استوار کرنے کے بعد کیے گئےتھے۔

امریکہ اور کیوبا کے رشتوں میں بہتری کے باوجود صدر اوباما کیوبا پر سے تجارتی پابندیاں ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں کیونکہ کانگریس نے اب تک اسے روک رکھا ہے۔

اسی بارے میں