سعودی عرب سے نکلنے کی بھارتی ملازم کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption عبدالستار مکاندار کرناٹک کے رہنے والے ہیں اور ان کی ایک ویڈیو دس لاکھ سے زیادہ بار دیکھی جا چکی ہے

ایک بھارتی ملازم کی ویڈیو نے خلیجی ممالک میں کام کرنے والے تارکین وطن کے کام کرنے کے حالات پر ایک بار پھر سے بحث چھیڑ دی ہے۔

ہر چند کہ اس ویڈیو کی صداقت پر حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم یہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

بھارتی ریاست کرناٹک کے عبدالستار مکاندار کو ملازمت دلانے والی ایک ایجنسی نے ممبئی میں سعودی عرب کے لیے ایک ٹرک ڈرائیور کے طور پر ملازمت کے لیے منتخب کیا تھا۔ لیکن دو سال بعد ان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے ملک جانے کے لیے چھٹی نہیں دی جا رہی ہے اور انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی نے کبھی بھی انھیں وقت پر تنخواہ نہیں دی ہے۔

کمپنی ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ یہ معاملہ کمپنی اور ملازم کے درمیان ہی رہتا اگر مکاندار نے اپنی جذباتی ویڈیو ٹیپ کر کے ایک سماجی کارکن کندن شریواستو کو نہیں بھیجی ہوتی۔

جب سے اس کارکن نے مکاندار کی پرنم ویڈیو فیس بک پر پوسٹ کی ہے اسے دس لاکھ بار سے زیادہ دیکھا جا چکا ہے۔

سعودی قانون کے مطابق بیرونی ممالک کے ملازم اپنے مالکان کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہیں جا سکتے جو کہ ’کفالہ کے قانون کا ایک حصہ ہے۔

حال میں اس طرح کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں جن میں ایک گھریلو خادمہ کے ہاتھ کاٹنے کی کہانی بھی شامل ہے اور ان چیزوں نے خلیجی ممالک میں ملازموں کے کام کرنے کے حالات پر گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کمپنی نے ان کی ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں انھوں نے کمپنی کا شکریہ ادا کیا ہے

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نائب ڈائرکٹر جیمز لنچ کا کہنا ہے کہ بہت سے ملازم بولنے سے گھبراتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی ٹرینڈنگ ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم لوگوں نے تارکین وطن ملازمین کو مالکان کے خوف سے بولنے سے گھبراتے ہوئے دیکھا ہے کہ کہیں ان کے خلاف بدلے کی کارروائی نہ کی جائے۔‘

مکاندار کے معاملے میں ان کی کمپنی السرور یونائٹڈ گروپ نے ان کے دعوے کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں دو سال بعد چھٹی دی جائے گی اور ابھی ان کی مدت میں چھ ہفتے بچے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مکاندار کو وقت پر تنخواہ دی گئی ہے، بونس بھی دیا گیا ہے اور وہ جب چاہیں نوکری سے دست بردار ہو سکتے ہیں۔

اس کے جواب میں کمپنی نے ملازم کی تصویر بھی پوسٹ کی ہے جس میں انھوں نے کمپنی کے تعاون کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ممبئی کی ایجنسی جس نے انھیں ملازمت دلوائی تھی اس کا کہنا ہے کہ انھیں ویڈیو کی آمد سے قبل یہ پتہ نہیں تھا کہ مکاندار وہاں خوش نہیں ہیں۔ ان کے پاس جو بینک کے سٹیٹمنٹ ہے اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مکاندار کو وقت پر تنخواہ دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارت کے لاکھو افراد ملازمت کے لیے خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں

دریں اثنا مکاندار کو ان کے کام سے برخاست کر دیا گيا ہے اور ویڈیو کی وجہ سے شاید وہ جیل بھیج دیے گئے ہیں۔ رواں ہفتے انھیں سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے کی وجہ سے سعودی قانون کے تحت حراست میں لے لیا گیا تھا۔

جبکہ سماجی کارکن شریواستو نے اس ویڈیو کو سوشل میڈیا سے ہٹا لیا ہے اور معافی مانگی ہے کیونکہ کمپنی نے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی تھی۔

تاہم انھوں نے اس معاملے پر پوسٹ کرنا جاری رکھا ہے اور امید کرتے ہیں کہ مکاندار کو سعودی عرب سے آنے کی اجازت مل جائے گی تاہم ابھی ان کے بارے میں معلومات نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

سعودی عرب میں بھارتی سفارتخانے نے کوئی بیان دینے سے انکار کیا ہے۔

اسی بارے میں