معاہدے کے بعد بھی پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب جس وقت معاہدہ نافذالعمل ہونا تھا تقریبا اسی وقت کشتیوں میں سفر کرتے ہوئے یونان کے جزیرے پر کم سے کم 875 پناہ گزین پہنچے ہیں

پناہ گزینوں سے متعلق ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والا معاہدہ نافذ العمل ہونے کے باوجود بھی سینکڑوں پناہ گزین سمندری راستے سے یونان پہنچے ہیں۔

معاہدے کے مطابق یونان پہنچنے والے ایسے تمام پناہ گزينوں کو ترکی واپس بھیج دیا جائے گا جو پناہ کے لیے درخواست نہیں دیتے یا پھر ان کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے۔

ترکی اور یورپی یونین میں ہونے والے معاہدے کا ایک اہم مقصد پناہ گزینوں کی اتنا بڑی تعداد کو یونان پہنچنے سے روکنا بھی ہے۔

لیکن اس معاہدے پر صحیح طریقے سے عمل کیسے ہوگا اس سے متعلق بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جزیرہ لیزبوز پر پہنچنے والی ایک کشتی میں دو شامی افراد مردہ پائے گئے تاہم یہ پتہ نہیں چل پایا ہے آخر ان کی موت کس وجہ سے ہوئی ہوگی

سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب جس وقت معاہدہ نافذالعمل ہونا تھا تقریباً اسی وقت کشتیوں میں سفر کرتے ہوئے یونان کے جزیرے پر کم سے کم 875 پناہ گزین پہنچے ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق شام سے ہے۔

جزیرہ لیزبوز پر پہنچنے والی ایک کشتی میں دو شامی افراد مردہ پائے گئے تاہم یہ پتہ نہیں چل پایا ہے کہ آخر ان کی موت کس وجہ سے ہوئی ہوگی۔ ادھر حکام کے مطابق روڈز کے ساحل پر دو لڑکیاں پانی میں ڈوبنے کے سبب مردہ پائی پاگئیں۔

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق ہر ایک پناہ گزین جو ترکی واپس بھیجا جائے گا اس کے بدلے میں ترکی میں پہلے سے موجود ایک شامی شخص کو یورپی یونین میں آباد کیا جائے گا۔

لیکن اس معاہدے پر عمل کیسے ہوگا یہ ایک بڑا سوال ہے۔ مثلا اتنی بڑی تعداد میں یونان پہنچنے والے پناہ گزینوں کو ترکی کیسے واپس بھیجا جائے گا اور جو پناہ گزین ہزاروں کی تعداد میں یونان پہلے سے پہنچے ہوئے ہیں ان کا کیا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوری 2015 کے بعد سے دس لاکھ کے قریب پناہ گزین کشتیوں کے ذریعے ترکی سے یونان میں داخل ہوئے ہیں۔ صرف اسی سال 143000 افراد یونان پہنچے ہیں، جب کہ 460 راستے میں ہلاک ہو گئے

حکام کا کہنا ہے کہ یونان پہنچنے والے پناہ گزینوں کو ترکی کو واپس بھیجنے کا عمل چار اپریل سے پہلے نہیں شروع کیا جا سکے گا۔

اس کے علاہ تقریبا 2300 وہ ماہرین، بشمول سکیورٹی کا عملہ، امیگریشن افسر، مترجم وغیرہ، ابھی تک یونان نہیں پہنچے ہیں جنہیں اس معاہدے کے نفاذ میں مدد کرنی ہے۔

اس دوران اب بھی راستے مسدود کر دیے جانے کے سبب دسیوں ہزار پناہ گزین یونان اور مقدونیہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اس دوران جرمن چانسلر اینگلا میرکل کے ایک اتحادی نے اس بات کے لیے خبردار کیا ہے کہ کرد بھی بڑی تعداد میں نقل مکانی کر سکتے ہیں۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق جنوری 2015 کے بعد سے دس لاکھ کے قریب پناہ گزین کشتیوں کے ذریعے ترکی سے یونان میں داخل ہوئے ہیں۔ صرف اسی سال 143000 افراد یونان پہنچے ہیں، جب کہ 460 راستے میں ہلاک ہو گئے۔

اسی بارے میں