’کیوبا میں تبدیلی آئےگی اور کاسترو یہ جانتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر اوباما اور صدر راؤل کاسترو گذشتہ برس کی پہلی ملاقات کے مقابلے میں زیادہ پرسکون نظر آئے۔

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ کیوبا میں تبدیلی آ ئے گی اور کیوبا کے صدر راؤل کاسترو یہ بات جانتے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر براک اوباما کیوبا کے تین روزہ دورے پر ہیں اور 88 سال میں پہلے امریکی صدر ہیں جنھوں نے کیوبا کا دورہ کیا ہے۔

انھوں نے ہوانا پہنچتے ہی ٹویٹ کیا تھا کہ وہ کیوبا کے عوام سے ملنا اور ان کی باتیں براہِ راست سننے کے مشتاق ہیں۔

اتوار کو کیوبا کے دورے پر پہنچنے کے بعد ’محل انقلاب‘ گئے جہاں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ بات چیت سے پہلے صحافیوں کے سامنے مصافحہ کیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس موقعے پر صدر اوباما اور صدر راؤل کاسترو دونوں گذشتہ برس کی پاناما میں ہونے والی پہلی ملاقات کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ پرسکون تھے اور دونوں رہنما مسکرا رہے تھے۔

امریکی صدر اوباما کے دورۂ کیوبا کی تصاویر

اس سے قبل اتوار کو ہوانا میں امریکی سفارت خانے میں گفتگو کرتے ہوئے صدر اوباما نے اپنے دورے کو ’تاریخی‘ قرار دیا۔ ان نے کچھ وقت شہر کے قدیم حصے میں بھی گزارا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reproducao
Image caption امریکی صدارتی خاندان ہلکی ہلکی بارش میں سرخ قالین پر سے گزرا۔ ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیوبا کے وزیرِ خارجہ برونو رودریگس نے کیا

کیوبا کی کمیونسٹ حکومت نے کہا کہ وہ اس دورے کے دوران انسانی حقوق اور جمہوریت سمیت ہر مسئلے پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم وزارتِ خارجہ کے ایک عہدے دار نے کہا کہ ایسے موضوعات پر گفت و شنید نہیں ہو گی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ’محلِ انقلاب‘ میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات بہت اہمیت کی حامل ہے اور مبصرین یہ جاننا چاہیں گے کہ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی کیا ابتدائی علامات نظر آتی ہیں۔

کیوبا آمد کے دو گھنٹے بعد صدر براک اوباما نے امریکی سفارت خانے کے عملے سے کہا تھا کہ ’1928 میں صدر کُولج نے بحری جنگی جہاز پر سوار ہو کر یہاں آئے تھے۔ انھیں یہاں آتے آتے تین دن لگے تھے۔ مجھے اس سفر میں صرف تین گھنٹے لگے۔ تاریخ میں پہلی بار ایئر فورس ون یہاں اترا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس نے حکومت مخالف ’لیڈیز ان وائٹ‘ نامی تنظیم کی درجنوں اراکین کو حراست میں لے لیا

صدر اوباما کیوبا کے صدر راؤل کاسترو سے ملاقات کے دوران تجارت اور سیاسی اصلاحات پر گفتگو کریں گے، تاہم انقلابی رہنما اور کیوبا کے صدر کے بھائی فیدل کاسترو سے ان کی ملاقات طے نہیں ہے۔

صدر اوباما کی ہوانا آمد سے قبل ہوانا میں کئی حکومت مخالف مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس نے سیاسی قیدیوں کی بیویوں کے ایک گروپ ’لیڈیز ان وائٹ‘ کی درجنوں ارکان کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ ایک چرچ کے باہر مظاہرہ کرنے کی تیاریاں کر رہی تھیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ امریکہ اور کیوبا کے تعلقات میں نئے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بی بی سی کے شمالی امریکہ کے مدیر جون سوپل کہتے ہیں کہ صرف 18 ماہ قبل کسی امریکی صدر کا کیوبا کی سرزمین پر قدم رکھنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

صدر اوباما اور صدر راؤل کاسترو ایک عشائیے میں شرکت کریں گے، جس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس ہو گی۔

وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ چاہے کیوبا پسند کرے یا نہ کرے، صدر اوباما کیوبا کی حکومت کے سیاسی مخالفین سے ملاقاتیں کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ ’لیڈیز ان وائٹ‘ کے ارکان سے بھی ملیں گے۔

اسی بارے میں