شام میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر روس کا انتباہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں 27 فروری سے جنگی کاروائیوں روکنے کے بعد سے تشدد میں کمی آئی ہے

روس نے امریکہ کو خبرادار کیا ہے کہ اگر وہ منگل تک شرائط پر متفق نہ ہوا تو وہ شام میں عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف وہ طاقت کا استعمال کر ے گا۔

پیر کو روسی افواج کے جرنیل نے شام میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے بارے میں حکمتِ عملی بنانے کے بارے فوری اجلاس بلانے کی تجویز دی اور کہا کہ شرائط پر اتفاق میں تاخیر ’ناقابلِ قبول‘ ہے۔

’شام امن مذاکرات کے لیے پیشگی شرائط سے گریز کرے‘روسی صدر پوتن کا شام سے فوج واپس بلانے کا اعلان

دوسری جانب امریکہ کا کہنا کہ روس کے خدشات کو تعمیری انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے روس نے شام سے اپنی افواج نے واپس بلانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ شام میں جس مقصد کے لیے فضائی بمباری کی جاری تھی وہ پورا ہو گیا ہے۔ روس نے کہا تھا کہ اس عارضی جنگ بندی کا اطلاق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور النصرہ فرنٹ پر نہیں ہوتا ہے۔

شام میں 27 فروری سے جنگی کاروائیوں روکنے کے بعد سے تشدد میں کمی آئی ہے جبکہ شام کی حکومت اور حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔

روسی افواج کے چیف آف سٹاف لیفیٹنیٹ جرنل سرگئے رویڈسوکی نے کہا کہ ’جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے گروہوں‘ پر نظر رکھنے کے طریقہ کار بنانے کے لیے امریکہ سے کئی بار درخواست کی گئی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے گروہوں‘ پر نظر رکھنے کے طریقہ کار بنانے کے لیے امریکہ سے کئی بار درخواست کی گئی لیکن کوئی جواب نہیں ملا: روسی جرنل

انھوں نے کہا کہ شام میں امریکہ حزبِ اختلاف کی پشت پناہی کر رہا ہے اور وہ ’نا معنی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

روس کے جرنل نے کہا کہ شام میں تشدد کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے جوابی حکمتِ عملی میں تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے میں شرائط کو حتمی شکل دینے کے روسی حکام امریکہ کے ساتھ ماسکو سمیت کسی بھی مقام پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے رویئٹرز سے بات چیت میں کہا کہ ’ہم نے میڈیا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سے متعلق روس کے الزامات اور خدشات دیکھے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جو بھی ایسے بیان دے رہا اُسے غلط فہمی ہوئی ہے کیونکہ ان معاملات پر تفصیلی اور تعمیری بات چیت ہو چکی ہے اور ہو بھی رہی ہے۔‘

اسی بارے میں