’جب خودکش بمبار بننے سے انکار کر دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

منگل نو فروری کو نائجیریا کی دو نوجوان لڑکیاں ملک کے شمال مشرق میں واقع بے گھر افراد کے ایک کیمپ میں داخل ہوئیں۔ کچھ منٹوں بعد انھوں نے خود کو دھماکہ خیز جیکٹوں سے اُڑا لیا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں 58 افراد ہلاک ہوگئے۔

لیکن ایک تیسری لڑکی نے شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے خودکش مشن میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔ یہ اُسی لڑکی کی کہانی ہے۔

حوا جو کہ اُن کا اصلی نام نہیں ہے، اپنی اصل عمر نہیں جانتیں لیکن وہ 17 یا 18 برس کی دکھائی دیتی ہیں۔

وہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے بوکو حرام کے پاس تھیں جب اُن کے اغوا کاروں نے دِکوا کیمپ پر حملے کا منصوبہ بنایا۔

اُن تین لڑکیوں سے کہا گیا کہ وہ اُن کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ایسا کریں گی تو وہ جنت میں جائیں گی۔ لیکن حوا جانتی تھیں کہ ان کو بوکو حرام کی حکم کی پیروی نہیں کرنی تھی۔

انھوں نے بتایا ’میں نے انکار کر دیا کیوں کہ میری والدہ دِکوا میں رہائش پذیر ہیں، میں وہاں جا کر لوگوں کو نہیں ماروں گی۔ بلکہ میں وہاں جاؤں گی اور اپنے خاندان کے ساتھ رہوں گی، چاہے میری موت ہی کیوں نہ ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اُن کے والدین اور ایک بھائی کے علاوہ تمام بہن بھائی جنھیں اُن کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا سب ہی دیگر 50 ہزار افراد جنھیں زبردستی گھروں سے نکالا گیا تھا، ریاست بورنو میں دِکوا کیمپ میں رہتے تھے

حوا نے بتایا کہ کس طرح اُنھیں ورغلا کے گروہ میں شامل کیا گیا۔

انھوں نے ایک مترجم کی مدد سے بتایا کہ ’میرے ساتھ روحانی مسائل تھے اس لیے بوکو حرام نے مجھے بتایا کہ وہ اِن سے چھٹکارا دلانے میں میری مدد کر سکتے تھے۔‘

ہم صحیح طریقے سے نہیں جانتے کہ حوا کو کن مسائل کا سامنا تھا لیکن نام نہاد ’بُری روحوں‘ نے انھیں خود پر مٹی ڈالنے اور حتیٰ کہ اپنا ہاتھ آگ میں ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا۔

جو بھی وجہ تھی لیکن انھوں نے بوکو حرام کو اپنے مسائل کا حل سمجھا اور وہ انھیں لے اڑے۔

وہ عسکریت پسندوں کے ساتھ بیتے دنوں کو یاد کرتی ہیں۔ ’ہم گھاس پُھونس والے گھروں میں رہ رہے تھے۔ میرے شوہر بھی آس پاس رہتے تھے، میں دن میں تین مرتبہ کھانا پکاتی تھی۔ ایک آدمی گوشت چُراتا اور ہمارے پاس پکانے کے لیے لے کر آتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

کچھ عرصے بعد حوا کی اپنے شوہر سے علیحدگی ہوگئی اور پھر اُن کی دوبارہ شادی ہوگئی۔

اُن کے دوسرے شوہر بھاگ گئے اور پھر انھوں نے تیسری شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد گروہ نے اُن کے لیے ایک منصوبہ تجویز کیا۔ اُن کے مطابق ’انھوں نے کہا کہ چونکہ میں نے دوبارہ شادی سے انکار کر دیا ہے تو مجھے بم لینا چاہیے۔‘

بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) پر مشتمل دِکوا کیمپ میدغوری کے شمال مشرق میں 85 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

حوا اس علاقے کو اچھی طرح سے جانتی تھیں اور یہ اُس مقام سے دُور نہیں تھا جہاں عسکریت پسندوں کی جانب سے اُنھیں رکھا گیا تھا۔ اس لیے حملے سے ایک رات قبل وہ صبح سویرے ہی روپوش ہوگئیں۔

اُن کا ارادہ اپنے خاندان اور دِکوا میں رہائش پذیر دیگر افراد کو اس طے شدہ حملے سے متعلق آگاہ کرنا تھا۔ لیکن اُنھیں بہت زیادہ دیر ہوچکی تھی۔

جس وقت وہ دِکوا کیمپ میں پہنچیں دو خودکش حملہ آور پہلے ہی حملہ کر چکی تھیں۔

کیمپ سڑک کے دونوں اطراف میں پھیلا ہوا ہے اور اس کے رہائشی اب بھی روزانہ دھماکے والی جگہ سے گزر کر خوراک اور پانی لینے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

یہاں اب بھی 15 ہزار لوگ رہ رہے ہیں اور بہت خوفزدہ ہیں۔ لیکن اُن کے پاس اور کوئی محفوظ جگہ بھی نہیں جہاں وہ جائیں اس لیے وہ یہاں رہنے پر مجبور ہیں۔

لوگوں نے بتایا کہ اب وہ کسی پر بھی اعتماد نہیں کر سکتے حتیٰ کہ بچوں پر بھی انہیں اعتبار نہہیں رہا۔

حوا نے خود حملہ ہوتے نہیں دیکھا لیکن انھیں فوجی تفتیش کاروں کی جانب سے حملے کے بعد کی فوٹیج دکھائی گئی تھی۔

انھوں نے دونوں لڑکیوں کی موت پر کہا ’یہ کوئی خوشگوار چیز نہیں تھی۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں تھی کہ ایک بم لے کر جاؤ اور اپنے ہی ساتھی انسانوں کو ہلاک کر دو۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ آیا جب وہ اپنے مشن پر جا رہی تھیں تو اُن لڑکیوں کو یہ بات معلوم تھی کہ وہ وہ ہلاک ہو جائیں گی۔‘

نائجیریا کے اس حصے میں والدین کے لیے بوکو حرام کا خوف ایک حقیقی بات ہے۔ گروپ نہ صرف اُن کے بچوں کے اغوا کرتا ہے بلکہ اپنے نوجوانوں کو قاتلوں کے طور پر اُن مقامات پر بھیجتے ہیں جہاں اُن کے مطلوب پناہ گزین موجود ہیں۔

یہ وہی ریاست ہے جہاں بوکو حرام نے 2014 میں چیبوک کے علاقے سے 200 سے زیادہ طالبات کو اغوا کیا تھا۔ اُن میں سے زیادہ تر اب بھی لاپتہ ہیں۔

حوا نے گروپ کی حکم عدولی کا فیصلہ کیا اور اپنی اور بہت سے ایسے متاثرین کی جانیں بچانے کے لیے فرار ہوگئیں۔

ہم نے اُن سے اُن کے مستقبل کے متعلق بات کی لیکن جب بچوں کا موضوع آیا تو انھوں نے ہنسی میں اُڑا دیا۔ انھوں نے کہا ’میں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں۔‘

اسی بارے میں