یوکرینی پائلٹ کو روس میں 22 سال قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نادیہ نے فیصلے کے بعد لوک کہانی کے انداز میں احتجاجی گیت گانا شروع کر دیا

یوکرین کی ایک پائلٹ کو روس میں دو روسی صحافیوں کی موت کا مجرم قرار دیا گيا ہے۔

یوکرینی پائلٹ نادیا ساوچینکو کو 22 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انھیں سنہ 2014 میں یوکرین میں توپ خانے سے فائر کرنے کا حکم دینے کا مرتکب پایا گیا جس میں یہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

فیصلہ سننے کے بعد انھوں نے عدالت میں لوک کہانی کے انداز میں احتجاجی گیت گانا شروع کر دیا۔ ججوں نے دو دنوں تک کیس کا مطالعہ کرنے کے بعد انھیں مجرم قرار دیا۔

انھوں نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور ان کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر بدنامی کا باعث بنا ہے۔

صدر پیٹرو پروشینکو نے کہا کہ یوکرین کبھی بھی اس ’نام نہاد‘ فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا اور اس سماعت کو انھوں نے ’مذموم‘ قرار دیا ہے۔

یوکرینی زبان میں جاری ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ وہ ساوچینکو کے بدلے میں دو روسی فوجیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں جو کہ ’یوکرین کے خلاف مسلح جارحانہ کارروائی میں شامل ہونے کے سبب وہاں زیر حراست ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نادیہ کو ان کی حراست کے دوران ہی رکن پارلیمان منتخب کیا گيا ہے

یوکرین کے وزیر خارجہ نے ان کی رہائي تک لڑنے کا عہد کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عدالت میں جب یوکرین کے وفد کے چند لوگوں نے وہاں قومی پرچم لہرانے کی کوشش کی تو وہاں ہاتھا پائي بھی ہوئي۔

روسی استغاثہ نے کہا کہ ساوچینکو نے ’سیاسی منافرت‘ کے تحت ایسا کیا۔

مغربی سیاست دانوں نے ان کی رہائي کی اپیل کی تھی اور انھوں نے ان کے وکیل کے خیالات سے حمایت کا اظہار کیا تھا کہ ان کے مقدمے کی سماعت سست ہے اور فریب ہے۔

یہ سماعت جنوبی روسی شہر دونیتسک میں ہوئي جو کہ یوکرین کی سرحد سے زیادہ دور نہیں۔

اسی بارے میں