’ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والا بمبار پیرس حملوں میں شامل تھا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بیلجیئم اور فرانس کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ برسلز کے ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والا خودکش بمبار پیرس میں ہونے والے پرتشدد حملوں کے لیے بم بنانے والوں میں شامل تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک حملہ آور کا ڈی این اے پیرس حملوں میں استعمال ہونے والی خودکش جیکٹ سے ملا تھا۔ بیلیجیئم کے حکام کے مطابق برسلز کے ایئرپورٹ پر براہیم البکراوی اور ان کے بھائی خالد نے میٹرو سٹیشن پر خودکش دھماکہ کیا۔

بیلجیئم میں سوگ، ’دونوں خودکش حملہ آور بھائی تھے‘ برسلز میں حملوں کی ویڈیو

بیلجیئم کے وفاقی پروسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ تیسرا حملہ آور مفرور ہے جبکہ ایئرپورٹ پر دیکھے جانے والے ایک اور مشکوک شخص کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکام کو کچرے کی ٹوکری سے ایک خودکش حملہ آور کا تحریر کردہ بیان ملا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمیں براہیم البکراوی کا تحریری بیان ملا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں، میں جلدی میں ہوں۔ میں بھاگ رہا ہوں۔ لوگ ہر جگہ میری تلاش میں ہیں اور اگر میں نے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا تو میں قید خانے میں ہوں گا۔‘

دوسری طرف برسلز میں بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔ شہر کے مرکز میں ہزاروں لوگ جمع ہوئے ہیں جنھوں نے پھول رکھے اور موم بتیاں جلائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption خودکش دو حملہ آوروں کی پہچان دو بھائیوں خالد اور ابراہيم خالد البكروای کے نام کی کی گئی ہے

بدھ کو بیلجیئم کے میڈیا پر ذرائع کے حوالے سے خبر دی گئی کہ برسلز حملوں کے مشتبہ مرکزی ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی۔ نجم العشراوی کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ایئر پورٹ پر حملے سے قبل سی سی ٹی وی پر ریکارڈ ہونے والے منظر میں دکھائی دیے تھے۔

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں دہشت گرد حملوں میں ہلاک والوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے جبکہ 250 کے قریب افراد زخمی ہیں۔

نشریاتی ادارے آر ٹی بی ایف کا کہنا ہے کہ پولیس کو دونوں حملہ آور بھائیوں کے متعلق معلومات تھیں۔

بیلجیئم میں ان حملوں کے بعد تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہےگ ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور برسلز میں فوجی دستے تعینات ہیں۔

تیسرے مشتبہ شخص کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ برسلز کے ہوائی اڈے پر دو بم دھماکوں کے بعد فرار ہو گیا تھا۔

سی سی ٹی کیمرے سی لی گئی ویڈیو میں دو مبینہ خودکش حملہ آوروں کے ساتھ ایک اور شخص بھی دکھائی دے رہا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ باقی دونوں افراد نے خودکش بم دھماکے کیے تھے اور یہ تیسرا شخص دھماکوں کے بعد فرار ہو گیا تھا۔ تیسرا دھماکہ ایک گھنٹے کے بعد مائل بیک میٹروسٹشن کے قریب ایک میٹرو سٹیشن میں ہوا تھا۔

دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کر لی ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے یورپ سفر کرنے والی امریکی شہریوں کو ‘حملوں کے خطرے‘ سے آگاہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Belgian police

ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہ ‘یورپ میں کھیلوں کے مقابلوں، سیاحتی مقامات، ریستورانوں اور ٹرانسپورٹیشن کو‘ نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

برسلز میں حملوں کے بعد منگل کی شب بڑی تعداد میں افراد معروف سیاحتی مقام پلیس ڈی لا باؤرس میں جمع ہوئے اور انھوں نے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔

دنیا بھر میں بہت سارے ممالک نے بیلجیئم حملوں کا نشان بننے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مختلف عمارتوں کو بیلجیئم کے جھنڈے کے رنگوں سے روشن کیا۔

اس سے قبل بیلجیئم کے پراسکیوٹر نے بتایا تھا کہ پولیس ویڈیو میں نظر آنے والے تیسرے شخص کو تلاش کر رہی ہیں جس نے ہیٹ پہنی ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ’برسلز میں ایک فلیٹ پر چھاپے کے دوران وہاں سے دھماکہ خیز مواد، کیمیکلز اور دولتِ اسلامیہ کے جھنڈے ملے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایئر پورٹ اور میٹرو سٹیشن پر ہونے والے دونوں بم دھماکے خودکش تھے۔

یہ دھماکے چار دن قبل پیرس حملوں کے ملزم صالح عبدالسلام کی برسلز ہی میں گرفتاری کے بعد ہوئے ہیں۔

دھماکوں کے بعد بیلجیئم کی حکومت نے خطرے کا درجہ انتہائی حد تک بڑھا دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برسلز میں منگل کی شب بڑی تعداد میں افراد نے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں

اسی بارے میں