امریکی افواج کی معلومات چرانے کے جرم میں چینی شہری کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty images

امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کی خفیہ معلومات چرانے کی منصوبہ بندی کرنے کے جرم میں ایک چینی شہری کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ 50 سالہ چینی شہری سیو بن لڑاکا طیاروں، مال بردار ہوائی جہازوں اور ہتھیاروں کے بارے میں معلومات چرانے والے گروہ میں شامل ہیں۔

امریکی محکمۂ انصاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسٹر سیو نے ’مالی فوائد‘ حاصل کرنے کے لیے یہ کام کیا ہے۔

چینی شہری کو سنہ 2014 میں کینیڈا سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس جرم کی پاداش میں انھیں پانچ سال قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف نے یہ نہیں کہا کہ خفیہ معلومات چرانے میں چین کی حکومت مجرم کے ساتھ تھی۔ تاہم امریکہ نے کئی مرتبہ چین پر اہم معلومات چرانے کا الزام عائد کیا ہے۔

قومی سلامتی سے متعلق نائب اٹارنی جنرل جان کارلن نے کہا کہ ’اس فیصلے سے پیغام دیا گیا ہے کہ امریکہ اور اُس کی کمپنیوں کی معلومات چرانے کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ہم ایسے جرائم کرنے والوں کو ڈھونڈ نکالیں گے۔‘

مسٹر سیوبن نے تسلیم کیا ہے کہ وہ چین میں دو افراد کی مدد سے اکتوبر 2008 سے مارچ 2014 تک وہ کیلفورنیا میں فوج کو سامان فراہم کرنے والے کنٹر یکٹر کے محفوظ ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے اور انھوں نے بوئنگ کی بھی خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق چرائی گئی ایک خفیہ معلومات غیر قانونی طور پر چین بھیجی گئی۔

مسٹر سیو کینیڈا میں ایک چینی ایوی ایشن کمپنی چلاتے تھے۔

اسی بارے میں