دہشت گرد حملوں سے بچنے کے پانچ طریقے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں تین دھماکوں کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے، جن سے میں کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ دو دھماکے زاوینتیم ہوائی اڈے پر ہوئے اور اس کے ایک گھنٹے بعد وسطی برسلز میں میٹرو سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والی ایک ویب سائٹ پر اِن دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی گئی ہے۔ بی بی سی نیوز نے اُن پانچ چیزوں پر نظر ڈالی ہے کہ اگر آپ حملوں کی زد میں آ جائیں تو اِن پر عمل کرنے سے آپ اپنے آپ کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

تیار رہیں

ابتدائی طور پر برسلز کے زاوینتیم ہوائی اڈے میں دھماکوں کی آواز سن کر وہاں موجود شہریوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ہوا کیا ہے۔ اُن کے خیال میں یہ کوئی تربیتی مشق تھی۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق صورتح ال کو سمجھنے میں جتنی دیر لگے گی وہ اتنی ہی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر کوئی شخص پہلے سے ہی اس بارے میں سوچ رکھے تو اِس سے ایسی صورت حال کے دوران ردِ عمل تیز ہو سکتا ہے۔

نفسیات اور عسکری امور کے ماہر جان لیچ کا کہنا ہے کہ ’آپ کو یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو میرا پہلا ردعمل کیا ہوگا؟‘

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کے ہوائی اڈوں، جن عوامی عمارتوں میں آپ جاتے ہیں، یا اُس جگہ جہاں آپ کام کرتے ہیں، وہاں سے باہر نکلنے کے لیے ہنگامی راستے کس جگہ ہیں۔

فوری ردِعمل اور ایک دوسرے کی مدد

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ حملوں کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور وہ کچھ نہیں کر پاتے۔ اگر آپ فیصلہ کُن انداز میں کوئی قدم اُٹھاتے ہیں تو اِس میں زندہ رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ انسانی فطرت ہے کہ ہم کوئی بھی قدم اُٹھانے سے قبل دوسروں کا انتظار کرتے ہیں۔

سماجی ماہر نفسیات اور ہجوم کے رویے کے ماہر کرس کوکنگ کا کہنا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنے سے لوگوں کے محفوظ رہنے کے امکان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

یہ وہی عمل ہے جو ایئر کارگو کمپنی ’سوئس پورٹ‘ کے ملازم اینتھنی نے منگل کے روز کیا۔ وہ دھماکے کے وقت اُس مقام سے 20 میٹر دور موجود تھے۔

اُنھوں نے فرانسیسی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’تمام لوگ ادھر ادھر دوڑنے لگے۔ میں نے سفری سامان کے ترسیلی بیلٹ پر چھلانگ لگا دی تاکہ نیچے پہنچ جاؤں۔‘

وہ دیگر دو افراد کے ہمراہ سفری راہداری والے علاقے میں چھپ گئے۔ اُس وقت اُنھوں نے سوچا کہ حملہ آور اب بھی عمارت میں موجود ہیں اور اُنھوں نے دھماکے کیے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ایک ہی بات کا ڈر تھا کہ اگر حملہ آور نیچے آگئے (جہاں یہ لوگ روپوش تھے)، اور اُنھوں نے ہمیں دیکھ لیا تو سب ختم ہو جائے گا۔‘

وہاں چھپنے کے دوران اُنھوں نے دو بار ایمرجنسی سروس والوں کو فون کیا۔ سروس والوں نے اُنھیں وہیں چھپے رہنے کا کہا۔ اُنھوں پولیس والوں سے اپنے ساتھیوں اور خود کو وہاں سے نکالنے کی درخواست کی۔ جس کے بعد اُنھوں نے سامان منتقل کرنے والی سلائیڈ کا اِستعمال کرتے ہوئے اُس مقام سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images

اُن کا کہنا ہے کہ ’اِس موقعے پر ہم نے ایک ڈی ایچ ایل کمپنی کے ملازمین کو دیکھا جو بعد میں ہمیں باہر جانے والے راستے تک لے گئے۔ ہمیں اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ ڈی ایچ ایل کمپنی کے لباس میں ملبوس دہشت گرد بھی ہو سکتے تھے، لیکن اُن کے پاس ہتھیار نہیں تھے۔ وہ ہمیں باہر نکلنے والے راستے تک لے گئے، جہاں صرف ڈی ایچ ایل کمپنی کے ملازم موجود تھے۔‘

آڑ لے لیں

صورت حال سے باہر نکلنے اور اپنے آپ کو چھوٹا ہدف بنانے کی کوشش کریں۔ ممکن ہو تو زمین پر لیٹ جائیں، لیکن سب سے بہترین عمل یہ ہے کہ کسی سخت چیز کی آڑ لے لیں۔

سکیورٹی کے مشورے کے مطابق سیمنٹ سے بنی مضبوط دیوار جیسی کوئی بھی سخت آڑ بہترین جگہ ہے، تاہم کوئی بھی آڑ کام کر سکتی ہے کیوں کہ اس طرح آپ حملہ آوروں کی نظروں میں آنے سے بچ سکتے ہیں۔

جب حملہ کسی بند جگہ پر ہو تو ایک گولی بھی کئی افراد کو زخمی کر سکتی ہے۔ حملہ آوروں کی نگاہوں سے دور رہنے سے نشانہ بننے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے اور آگ لگانے کی صورت میں بھی اُس کی زد میں آنے کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ایسی صورت حال میں مردہ ہونے کی اداکاری کرنے سے بھی جان بچائی جا سکتی ہے۔ جبکہ دیگر مواقع پر اُس جگہ سے دور نکل جانا اچھا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ برطانوی حکومت اِس بارے میں مشورہ دیتی ہے کہ اگر حملے کی جگہ سے باہر نکلنے کا محفوظ راستہ ہو تو بھاگ جائیں۔ لیکن اگر کوئی محفوظ راستہ نہ ہو تو چھپ جائیں۔ اِس صلاح کا خلاصہ ایسے کیا جا سکتا ہے کہ ’دوڑ لگانا، چھپ جانا، بتا دینا۔‘

جوابی حملہ

کبھی کبھار ہتھیار بند شخص پر حملہ کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ گذشتہ سال اگست میں فرانس کی ٹرین میں اُس وقت حملہ ناکام بنا دیا گیا جب ٹرین میں موجود مسافروں نے واحد مسلح شخص پر قابو پا لیا تھا۔ لیکن حملہ آور پر قابو پانے والے چار افراد میں سے ایک فضائیہ اور دوسرے شخص نیشنل گارڈ میں کام کرتے تھے۔ اُن لوگوں نے اُس وقت کوشش کی جب حملہ آور کا ہتھیار خراب ہوگیا تھا۔

سابق برطانوی فوجی اور فارمیٹو گروپ سیکورٹی نامی کمپنی کے انتظامی سربراہ ایان ریڈ کا کہنا ہے کہ تربیت کے بغیر حملہ آور پر قابو پانے کی کوشش کرنے کا خیال اچھا نہیں ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’اِس سے آپ کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘

یہ بات ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ حملہ آور گروہ کی شکل میں کام کرتے ہیں۔ کچھ حملہ آور گولیوں سے محفوظ رکھنے والا لباس زیب تن کیے ہوتے ہیں اور کچھ حملہ آوروں کے پاس دھماکہ خیز مواد بھی ہو سکتا ہے۔

خطرات کے باوجود کچھ افراد کا خیال ہے کہ اگر لڑائی کی ضرورت پیش آ جائے تو اِس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

فرار کے بعد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اگر کوئی شخص صورت حال سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ محتاط رہے۔

ریڈ کا کہنا ہے کہ ’جتنا دور جانا ممکن ہو چلے جائیں۔ کسی سخت رکاوٹ کی آڑ ممکن ہو تو لے لیں اور قریب میں موجود حکام سے مدد مانگنے کے لیے چلے جائیں۔‘

قریب میں موجود بڑے ہجوم اور عوامی ٹرانسپورٹ تک پہنچنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہاں کوئی دوسری کارروائی کی جا سکتی ہے یا وہاں بم ہو سکتا ہے۔‘

اہم پولیس افسران یا دیگر حکام سے مشورہ لیں کیونکہ اُنھیں حالات کا بہتر علم یا اندازہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں