فرانس جا کر اپنی صفائی دوں گا: صالح عبدالسلام

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صالح کو برسلز میں پولیس کے ایک چھاپے میں زخمی ہونے کے بعد گرفتار کیا تھا

پیرس حملوں کے مشتبہ ملزم صالح عبدالسلام کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ بیلجیئم سے فرانس کو اپنی حوالگی کی مزاحمت نہیں کریں گے۔

صالح عبدالسلام نومبر میں پیرس پر ہونے والے حملوں کے مرکزی ملزمان میں سے ایک ہیں۔ ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

* مشتبہ حملہ آور عبدالسلام ’تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں‘ * صالح عبدالسلام کے ایک نئے’ساتھی‘ کی شناخت

انھیں برسلز میں پولیس کے ایک چھاپے میں زخمی ہونے کے بعد گرفتار کیا تھا۔

عبدالسلام کے وکیل سوین مری نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ ’عبدالسلام جلد از جلد فرانس جانے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ وہاں جا کر اپنی صفائی پیش کریں۔‘

اس سے پہلے مسٹر مری نے اس سے پہلے کہا تھا کہ صالح عبدالسلام اپنی حوالگی کے خلاف قانونی لڑائی کا ارادہ رکھتے تھے لیکن وہ پولیس کے ساتھ تعاون کر رہے تھے۔

بیلجیم نژاد عبد السلام فرانس کے شہری ہیں جنھیں فرانس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

منگل کو برسلز میں ہونے حملوں میں 31 افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں کا تعلق بھی پیرس حملوں اور عبدالسلام کی گرفتاری سے جوڑا جا رہا ہے۔

مسٹر مری نے مزید بتایا ہے ’عبد السلام کو برسلز حملوں سے متعلق معلومات نہیں ہیں اور انھوں نے ان حملوں کے بعد پولیس کے ساتھ تعاون بند کر دیا ہے۔‘

جمعرات کو عبد السلام کی حراست سے متعلق ہونے والی سماعت اب 7 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

اسی اثنا میں بیلجیئم میں وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ برسلز حملوں میں زخمی ہونے والے کئی افراد اب بھی انتہائی نگہداشت میں ہیں۔

میگی ڈی بلاک کا کہنا ہے کہ 300 زخمی افراد میں سے 61 افراد اب بھی تشویش ناک حالت میں ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

بیلجیئم سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پولیس کا خیال ہے کہ برسلز حملوں کے دو مشتبہ حملہ آور مفرور ہیں۔ ان میں سے ایک شخص تو وہ ہے جو ہوائی اڈے سے فرار ہوا جہاں وہ دو خودکش بمباروں کے ساتھ دیکھا گیا۔ جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ایک دوسرا شخص میٹرو پر خودکش حملے میں معاون تھا۔

اسی بارے میں