’ٹکڑے تقریباً یقینی طور پر ملائیشیا کے لاپتہ جہاز کے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دو ٹکڑے دو مختلف لوگوں کو ملے اور معائنے کے لیے آسٹریلیا منتقل کر دیے گئے تھے

آسٹریلیا کے وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ موزمبیق سے ملنے والے جہاز کے دو ٹکڑے تقریباً یقینی طور پر ملائیشیا کی حادثے کا شکار ہونے والی پرواز فلائٹ ایم ایچ 370 کے ہی ہیں۔

یہ دو ٹکڑے دو مختلف لوگوں کو ملے اور معائنے کے لیے آسٹریلیا منتقل کر دیے گئے تھے۔

ڈیرن چیسٹر کا کہنا ہے کہ لاپتہ جہاز کے ملبے سمندری بہاؤ کے ساتھ مماثلت رکھتا ہے جو کہ سمندری لہروں نے پھر ساحل تک پہنچایا ۔

مارچ 2014 کو ملائیشیا ایئر لائنز کی کوالالمپور سے بیجنگ جانے والی پرواز ایم ایچ 370 لاپتہ ہوگئی تھی اور مانا جاتا ہے کہ اپنے طے شدہ راستے سے ہٹ کر یہ طیارہ بحر ہند میں لاپتہ ہو گیا۔ اس طیارے میں 239 مسافر سوار تھے۔

اس طیارے کا انجام ایوی ایشن کے لیے سب سے بڑا غیر حل شدہ معمہ ہے ۔

تاحال ملنے والے ملبے کے صرف ایک حصہ کی تصدیق ہوئی ہے جو کہ جہاز کے پر کا حصہ ہے۔ اسے ’ فلیپرون‘ کہلایا جاتا ہے اور یہ حصہ بحر ہند میں ’ریونین‘ نامی جزیرے سے ملا۔ ایک ملبے کا ٹکڑا امریکہ کے ایک غیرپیشہ ور کھوجی کو فروری میں ملا اور دوسرا ملبے کا ٹکڑا دسمبر میں جنوبی افریقہ کے ایک سیاح کو ملا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مارچ 2014 کو ملائشیا ایئر لائنز کی کوالالمپور سے بیجنگ جانے والی پرواز ایم ایچ 370 لاپتہ ہوگئی تھی

چیسٹر کا کہنا تھا کہ تفتیشی ٹیم نے ملبے کا معائنہ ختم کر لیا ہے اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ موزمبیق سے بوئنگ 777 کا ملنے والا ملبہ ملائیشیا ایئرلائنز کی حادثے کا شکار ہونے والی پرواز فلائٹ ایم ایچ 370 کے حصوں کے مطابق ہی ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اس بات کا ’قوی امکان‘ ہے کہ ملبے کے حصے ایم ایچ 370 کے ہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیش صحیح حصے میں کی جا رہی ہے ۔ آسٹریلیا بحر ہند کے جنوبی حصے کی گہرائی تک سراغ کی رہنمائی کر رہا ہے ۔

اس تحقیق میں چین اور ملائیشیا سے ماہرین بھی شامل ہیں اور ایم ایچ 370 کے ملبے ڈھونڈنے کی امید میں سمندر کی تہہ کو بھی سکین کر رہے ہیں۔ یہ وہ سمندر کا وہ حصہ ہے جہاں اس سے پہلے سیاحت یا مسافت نہیں کی گئی ہے۔

چیسٹر کا کہنا تھا کہ ابھی سمندر کے 25 ہزار مربع کلومیٹر حصے کا معائنہ کرنا باقی ہے ۔

’ہماری توجہ اس کام پر پوری طرح مرکوز ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہمیں یہ طیارہ مل جائے گا۔‘

اسی بارے میں