نیوزی لینڈ میں عوام موجودہ پرچم میں تبدیلی کے خلاف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرچم کے مجوزہ نئے نمونے کانام سلور فرن ہے

نیوزی لینڈ کے قومی پرچم میں تبدیلی کے لیے ہونے والے ریفرینڈم کے ابتدائی نتائج کے مطابق کہ عوام کی اکثریت موجودہ پرچم کو برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔

حکام کا کہنا ہے اس ریفرینڈم میں تقریبا 21 لاکھ لوگوں نے حصہ لیا جس میں سے تقریبا 56.61 فیصد لوگوں نے اس میں تبدیلی نہ کرنے کے لیے ووٹ ڈالا ہے۔

نیوزی لینڈ کے عوام ملک کے موجودہ پرچم کو تبدیل کرنے یا نہ کرنے سے متعلق ریفرینڈم کے نتائج کے بے چینی سے منتظر تھے۔

نیوزی لینڈ کا موجودہ پرچم برطانوی یونین کے ڈیزائن کا حامل ہے جس کے باعث اسے ماضی میں برطانوی نوآبادیات کا حصہ ہونے کی نشانی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور انہیں وجوہات کی بنا پر کئی لوگ اسے تبدیل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

عوام کا رجحان جاننے کے لیے کی جانے والی رائے شماری کے مطابق اکثریت اس تبدیلی کی مخالف تھی۔

پرچم کے مجوزہ نئے نمونے کا نام سلور فرن (فرن: چھوٹی پتیوں والا ایک پودا) ہے۔ نئے پرچم پہ سرخ رنگ کے چار ستارے بنے ہیں جو جنوبی ستاروں کے جھرمٹ کی ترجمانی کرتے ہیں اور موجودہ پرچم میں بھی موجود ہیں، جبکہ کونے میں کالا رنگ اور چمکدار فرن بنا ہوا ہے۔ تاہم یہ نقوش نیوزی لینڈ کی معروف رگبی ٹیم کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔

مجوزہ پرچم گذشتہ سال دسمبر میں ریفرنڈم کے پہلے مرحلے میں پانچ دیگر نمونوں میں سے منتخب کیا گیا تھا۔ ان پانچ نمونوں کو ایک پینل نے 40 نمونوں پر مشتمل طویل فہرست میں سےمنتخب کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پرچم کی تبدیلی سے نیوزی لینڈ کے انعام یافتہ کھلاڑیوں کے انعامات بھی تبدیل کرنا پڑیں گے

وزیر اعظم جان کی پرچم کی تبدیلی کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی علامت کی تبدیلی کے لیے یہ ایک نادر موقع ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’بنیادی طور پر یہ موقع یونین جیک کا نشان پرچم سے ہٹانے اور اس کی جگہ چمکدار فرن کو دینے کےلیے ہے۔‘

ممکنہ نئے پرچم کا نمونہ آسٹریلیا میں مقیم نیوزی لینڈ کے باشندے کائل لوک ووڈ نے تخلیق کیا ہے۔

آل بلیکس قومی رگبی ٹیم کے سابق کپتان رچی مک کو نئے پرچم کی حمایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ موجودہ پرچم آسٹریلیا کے پرچم سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے جبکہ کچھ لوگوں کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے کہ نیا پرچم غیر متاثرکن ہے۔

نیوزی لینڈ کے معروف اداکار سیم نیل نئے پرچم کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’ساحل سمندر پر استعمال ہونے والا تولیہ (موجودہ پرچم کا) متبادل نہیں ہوسکتا۔ یہ انتہائی بدنما ہے۔‘

حتمی نتائج کا اعلان اگلے بدھ کو کیا جائے گا۔

اسی بارے میں