امریکہ میں سائبر حملوں کے الزام میں سات ایرانیوں پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اٹارنی جنرل مسز لینچ نے کہا کہ ان سائبر حملوں سے لاکھوں امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے

امریکہ نے 50 مالیاتی کمپنیوں اور ایک ڈیم کے کمپیوٹر سسٹم کو مبینہ طور پر ہیک کرنے پر الزام میں سات ایرانی شہریوں پر فردِ جرم عائد کی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہیکنگ کی یہ کوشش سنہ 2011 سے 2013 کے درمیان کی گئی اور اس میں ایرانی کمپنیاں ملوث تھیں۔

جمعرات کو امریکہ کےمحکمۂ انصاف نے سات ایرانیوں پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہیکرز ایران میں اپنی حکومتوں کے لیے کام کر رہے تھے۔

امریکی محکمۂ انصاف نے انھیں ’تجربہ کار ہیکرز‘ قرار دیا اور حکام سے کہا کہ یہ اُن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے جب امریکہ میں انفراسٹیکچر، صنعتوں اور پانی کے شعبے میں سائبر حملے کرنے والے ایسے افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے جو حکومتوں سے وابستہ ہیں۔

امریکی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسے حملے ’ہماری معیشت اور عالمی منڈیوں میں شفاف مقابلے کے لیے خطرہ ہیں اور ان دونوں کا تعلق ملک کی قومی سلامتی سے ہے۔‘

اٹارنی جنرل مسز لینچ نے کہا کہ ان سائبر حملوں سے لاکھوں امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

امریکہ نے مبینہ سائبر حملوں میں ملوث سات ایرانیوں کے نام بھی ظاہر کیے ہیں۔ان میں دو افراد نے امریکہ کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی ویب سائٹ اور سرور کو ہیک کرنے کی ذمہ داری قبولی کی تھی۔

جبکہ امریکی حکام کے مطابق ایک اور ایرانی ہیکر نے نیویارک کے باؤمین ڈیم کے کمپیوٹر سسٹم تک رسائی حاصل کر لی تھی اور وہ ’ڈیم کے دروازے کھول یا بند کر سکتے تھے۔‘

ان افراد کو سازش کرنے میں معاونت کرنے اور کمپیوٹر سسٹ کو ہیک کرنے کے جرم میں زیادہ سے زیادہ 10 سال سزا ہو سکتی ہے لیکن یہ بات واضع ہے کہ ایران ان ملزموں کو نہ تو حراست میں لے گا اور نہ ہی امریکہ کے حوالے کر گا۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ان افراد پر فردِ جرم عائد کرنا بھی ضروری ہے۔

اسی بارے میں