’برسلز، پیرس حملوں کے ذمہ دار نیٹ ورک کو ختم کیا جا رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بیلجیئم میں گرفتاریوں کے دوران گولی چلنے کی آواز بھی سنی گئی

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے برسلز اور پیرس حملوں میں ملوث عسکریت پسند گروہ کو صفحۂ ہستی سے مٹایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس اور بیلجیئم کے حکام متصبہ ملزمان کی تلاش اور ان کی گرفتاری میں کامیاب رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ابھی بھی خطرہ موجود ہے۔

’ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والا بمبار پیرس حملوں میں شامل تھا‘

اسی اثنا میں بیلجیئم میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برسلز میں دہشت گردوں کے خلاف ایک آپریشن کے دوران دو مشتبہ افراد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ مشتبہ افراد اُن تین افراد میں سے ہیں جنھیں جمعے کی صبح سے پولیس نے محصور کر رکھا تھا۔جرمنی اور فرانس میں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بیلجیئم کے حکام نے برسلز کے ایئر پورٹ پر حملہ کرنے والے دوسرے شخص کی شناخت نجم لشراوی کے نام سے ہوئی ہے اور پیرس حملوں کی جائے وقوعہ سے اس شخص کے ڈی این اے کے نمونے ملے ہیں۔

یہ اطلاعات ایک ایسے وقت پر سامنے آئیں ہیں جب برسلز میں جمعرات کو حملوں کی تحقیقات کے دوران تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

استعغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں پیرس حملوں کے سلسلے میں ایک چھاپے کے دوران ہوئیں اور پولیس نے ایک دہشت گردی کے منصوبے کو بے نقاب کیا ہے۔

برسلز کے میٹرو سٹیشن اور ہوائی اڈے پر ہونے والے بم دھماکوں میں 31 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پولیس نے یورپی ممالک سے مزید دس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ منگل کو ہونے والے بم حملوں کی تفتیش کا کام جاری ہے جس میں 31 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

برسلز میں گرفتاریاں شاربیک ضلعے میں ہوئیں جہاں پولیس آپریشن کے دوران کم از کم تین دھماکوں کی اطلاع ہے۔ ابھی تک گرفتار شدہ افراد کی نہ تو شناحت ظاہر کی گئی گئی ہے اور نہ ہی یہ یہ واضع کیا گیا ہے ان کا تعلق منگل کے حملوں سے ہے یا نہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ برسلز میں شروع کیا جانے والا آپریشن اب ختم ہو گیا ہے۔

میڈیا میں آنے والی خبروں میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے بیک پیک پہنے ہوئے ایک شخص کو اس وقت قابو کر لیا جب اس نے پولیس کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔ بعد میں بتایا گیا کہ وہ شخص زخمی ہو گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے دیکھا کہ مشین گن سے مسلح ایک شخص ایک انڈر پاس کے نیچے سے نکلا اور پولیس نے اس کی ٹانگ پر گولی مار دی۔

بیلجیئم ٹی وی میں بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار بھی جائے وقوع پر موجود دکھائے گئے ہیں۔

ایک مقامی رہائشی نے کہا کہ اس نے گولی چلنے کی آواز سنی ہے۔

بیلجیئم میں ہونے والی گرفتاریاں جمعرات کی رات علاقے میں گھر گھر تلاشی کے دوران کی گئیں۔

جمعرات کو ایک الگ واقعے میں فرانس میں پولیس نے پیرس کے پاس ارجینٹوائی میں انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے تحت ایک مشتبہ شدت پسند کو گرفتار کیا جو حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بیلیجیئم  کے حکام کو ’غیر ملکی جہادی‘ کے بارے میں خبردار کیا تھا لیکن انھوں نے اسے نظرانداز کیا‘: ترکی

فرانس کے وزیر داخلہ برنارڈ کزینیؤ کا کہنا ہے کہ جس مشتبہ شدت پسند کو گرفتار کیا گيا ہے وہ بیرونی نسل کا ہے اور حملے کے اپنے منصوبے میں وہ کافی آگے تک تیاری کر چکا تھا۔

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ منگل کو برسلز یا گذشتہ برس پیرس میں ہونے والے حملوں سے اس شخص کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

برسلز کے حملوں کا تعلق فرانس میں گذشتہ نومبر کے حملوں سے بتایا جا رہا ہے اور ان دونوں حملوں کی ذمہ داری نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

اس سے قبل بیلجیئم کے حکام نے تسلیم کیا تھا کہ برسلز میں حملوں میں ملوث ایک حملہ آور کو گرفتار نہ کرنے پر اُن سے ’غلطی‘ ہوئی ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ اُس نے گذشتہ سال جون میں شام کی سرحد کے قریب سے براہیم البکراوی کو حراست میں لیا تھا اور بیلجیئم کے حکام کو ’غیر ملکی جہادی‘ کے بارے میں خبردار کیا تھا لیکن انھوں نے اسے نظرانداز کیا‘۔

بیلجیئم کے وزیر داخلہ اور وزیر انصاف سے اس ناکامی کے بعد اپنا استعفیٰ دیا ہے لیکن وزیراعظم نے اُن کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

برسلز میں منگل کو ہونے والے خودکش حملوں میں 31 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں