’روف ٹاپنگ‘ کا نیا خطرناک کھیل

Image caption روف ٹاپر بلند عمارتوں پر چڑھ کر ویڈیو بناتے ہیں اور پھر انھیں یو ٹیوب پر پوسٹ کر دیتے ہیں

چھتوں کو سر کرنے والے یا ’روف ٹاپرز‘ کہلانے والے کئی نوجوان اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر کرینوں، پلوں، اور بلند عمارتوں پر چڑھ کر ایسی فلمیں بناتے ہیں جن کو دیکھ کر جھرجھری سی آتی ہے، جسے کئی لوگ دیکھنے سےاجتناب کرتے ہیں لیکن تجسس ایسا ہوتا ہے کہ دیکھے بغیر رہا بھی نہیں جاتا۔

سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ایسا کام کیوں کرتے ہیں جو نہ صرف خطرناک ہے بلکہ غیر قانونی بھی ہے؟

جیمس کنگسٹن ہزاروں فٹ اونچی کرین پر بغیر کسی حفاظتی ساز و سامان کے کھڑے ہو کر نیچے کی جانب دیکھتے ہوئے بھی انتہائی پرسکون دکھائی دے رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کوئی جوش نہیں، بلکہ صرف خوشی اور مسرت کا احساس ہے۔ یہاں پر کچھ نہیں ہے سوائے آپ کے اور آپ کی انگلیوں کے آگے ان سریوں کے جنھیں پکڑ کر آپ اوپر کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘

سنہ 2013 میں جیمز نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ ساؤتھیمپٹن میں ایک 96 میٹر اونچی عمارت کی کرین کے بازو پر چلتے ہوئے ڈوبتے سورج کا نظارہ ریکارڈ کر رہے ہیں۔

ان خطروں کے باوجود جیمز کو اپنے اعصاب پراختیار اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر بھروسہ ہے اس ہی لیے وہ ابھی تک زندہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جس لمحے آپ نے حفاطتی سازوسامان لینا شروع کر دیا اسی لمحے آپ کو اپنی صلاحیتوں پر شک ہونے لگے گا، اور جہاں آپ کو شک ہو جائے، وہیں سے کام خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

’اس سے آپ کا چیزوں کو دیکھنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ آپ کو ہر چیز ممکن لگتی ہے جبکہ حفاظتی سازو سامان آپ کو آگے جانے سے روکتا ہے۔‘

ساؤتھیمپٹن سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ جیمز اب اس ہی کام سے اپنی گزر اوقات کرتے ہیں، اور جسے وہ فن یا آرٹ کا درجہ دیتے ہیں۔

انھوں نے ایفل ٹاور، کیئف کے ماسکو برج، یا پھر دبئی میں مرینا 101 کی عمارتوں پر چڑھتے ہوئے مختلف اونچائیوں سے انتہائی بہترین کوالٹی کی ویڈیوز یوٹیوب پر پوسٹ کی ہیں جسے اب تک سوا دو لاکھ لوگ دیکھ چکے ہیں۔

جیمز اب بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے لیے اسی قسم کے کرتب دکھانے کی خاطر دنیا بھر کا سفر کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے کارناموں کی تصاویر اور چیزیں بیچتے بھی ہیں۔

شرمیلا نوجوان

Image caption جیمز کنگسٹن کہتے ہیں کہ روف ٹاپنگ میں حصہ لینے سے قبل انھیں اونچائی سے خوف آتا تھا

کچھ ہی سال قبل وہ ایک شرمیلے سے نوجوان تھے جس کو اونچائی سے خوف آتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے بہت سی وجوہات کی وجہ سے سکول چھوڑ دیا تھا۔ اور ایک وقت ایسا تھا جب میں سوائے کمپیوٹر گیمز کھیلنے کے کچھ نہیں کرتا تھا۔ میں ایک غیر صحت مند اور موٹا لڑ کا تھا جس کے کچھ زیادہ دوست بھی نہیں تھے۔‘

لیکن ان کی زندگی میں اس وقت تبدیلی آئی جب انھوں نے بی بی سی ون پر ڈیوڈ بیلی کا ایک پروموشن ٹریلر دیکھا جس میں ان کو فرانس کے ایک شہری کھیل لی پارکر کا گرو دکھایاگیا تھا۔ اس کھیل میں آپ کو مختلف رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے منزل پر پہنچنا ہوتا ہے۔

’میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے اونچائی کے خوف کو شکست دوں گا اور پھر میں اونچی چیزوں پر چڑھنا شروع کر دیا۔‘

23 سالہ میتھیو ایڈمز نے نیچے اترنے اور اوپر چڑھنے کا تجربہ بھی کیا ہوا ہے۔ دو سال قبل وہ ایک 30 فیٹ اونچی عمارت سے گرگئے تھے جس میں ان کی سات ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔

اس ماہ کے شروع میں میتھیوز اور ان کے دیگر تین ساتھیوں کو سفوک کے علاقے لوس ٹوفٹ میں گرفتار کیے جانے کے بعد ان پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور ان پر عمارتوں پر چڑھنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

ان کو اپنی خطرناک حرکتوں کے وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس افسروں کا کہنا تھا کہ ان کو ڈر تھا کہ کہیں یہ مہم جو گر نہ جائیں جس سے نہ صرف وہ خود کو ہلاک کریں گے بلکہ زمین پر چلنے والے لوگوں کی موت کی وجہ بھی بنیں گے۔

میتھیو ایڈمز کا کہنا ہے کہ پولیس کے اس ایکشن سے اس کھیل کو پھلنے پھولنے میں مدد ملے گی۔

’امید ہے کی مزید پابندیوں کی صورت میں میدان میں صرف وہی لوگ رہ جائیں گے جو اس فن کے لیے واقعی پر جوش ہیں۔‘

نقالوں سے ہوشیار

وہ کہتے ہیں کہ وہ بھی صرف دیکھا دیکھی ایسا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔

Image caption میتھیو ایڈمز نے یورپ کی متعدد عماریں سر کی ہیں

’یہ سکیئنگ، ماؤنٹین بائیکنگ، اور فارمولا ون ڈرائیونگ کی طرح ایک محنت طلب کھیل ہے، جس میں کھلاڑی زخمی ہونے کے باجود حوصلہ نہیں ہارتے اور دوبارہ واپس آ جاتے ہیں۔ لیکن ان کو اس ناپسندیدگی سے نہیں دیکھا جاتا جیسے ہمیں دیکھا جاتا ہے۔

’میں ہمیشہ ایسے لوگوں کو باز رہنے کی نصیحت کرتا ہوں جو سوشل میڈیا سے نقل کر کے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہ کام ہے کو آپ خود سیکھتے ہیں۔‘

کراؤن پراسیکیوشن سروس نے ’روف ٹاپنگ‘ کو قانونی حیثیت دینے پر کوئی بھی بیان دینے سے انکار کر دیا ہے۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کھیل میں خطرات بہت ہیں۔ گذشتہ سال ایک روسی نوجوان آندر ے ریٹروسکی اپنے انسٹا گرام کے لیے سیلفی لیتے ہوئے نو منزلہ عمارت سے گر کر ہلاک ہو گیا تھا۔

حادثات کی روک تھام کے لیے بنائی گئی رائل سوسائٹی (روسپا) کے سیفٹی مینیجر ڈیوڈ واکر کہتے ہیں کہ ’مہم جوئی کا شوق رکھنا کوئی بری بات نہیں لیکن ان کو حالات اورماحول کےمطابق اختیارکرنا چاہیے۔

’کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی کے شوق پورا کرنے کے دوران کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو اس کا اثر نہ صرف اس شخص پر پڑے گا، بلکہ ان کا خاندان، ہنگامی سروسز، اور تعمیراتی مقامات پر کام کرنے والا عملہ بھی متاثر ہوں گے۔‘

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک معروف روف ٹاپر ایسٹی ٹامس کہتے ہیں وہ کبھی بھی ’بلاوجہ خطرات‘ مول نہیں لیتے۔

21 سالہ یسٹی نے 2015 میں لیور پول کی یونٹی بلڈنگ کو سر کر کے شہرت حاصل کی تھی۔

وہ کہتے ہیں: ’میں ان لوگوں میں سے نہیں جو اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ میں کوئی لاپروا شخص نہیں ہوں۔ مجھے بھی اوروں کی طرح اپنی زندگی کی پروا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے میں اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنا چاہتا ہوں۔‘

ٹامس کہتے ہیں کہ ان کو دیگر روف ٹاپرز سے کسی قسم کی رقابت نہیں ہے جو ان کو آ گے جانے کے لیے بلا وجہ خطرہ مول لینے پر اکسائے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مقابلہ اس کھیل کا حصہ نہیں ہے۔‘

ساؤتھیمپٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بریڈلی گیریٹ نے روف ٹاپنگ کے فن پر تفصیلی تحقیق کی ہے جس میں امریکہ میں اس کی ابتدا سے لے کر چین اور روس کے ہائی پروفائل سٹنٹس تک شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر روف ٹاپر ایک ہی نظریے پر چلتے ہیں۔ وہ ایک میٹر چوڑے چھجے اور ایک میٹر لمبی فٹ پاتھ میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے نہیں گر سکتے تو پھر آپ چھجے پر چلتے ہوئے کیسے گر سکتے ہیں؟‘

کیا روف ٹاپنگ قانونی ہے؟

یونیورسٹی آف ریڈنگ کے سکول آف لا کے پرفیسر مارک وائلڈ کے مطابق: ’جب بھی کوئی کسی زمین یا عمارت پر مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہوتا ہے، تو وہ بےجا مداخلت کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ زیادہ تر موقعوں پر اس مسئلے کا حل شہری حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے نہ کہ عدالت کی۔ جس کا مطلب ہے کہ عمارت یا زمین کا مالک مداخلت کرنے والے پر مقدمہ کر سکتا ہے۔

’اور اگر مداخلت کرنے والے نے غلطی سے کسی چیز کو نقصان پہنچایا ہے تو مالک اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے بھی مقدمہ کر سکتا ہے۔ لیکن کچھ حساس مقامات پر بغیر اجازت داخل ہونا مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ ریلوے کی اراضی۔

’ان مقامات پر جہاں حساس سرکاری تنصیبات موجود ہیں، بغیر اجازت داخل ہونا بھی جرم ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بھاری جرمانہ اور چھ ماہ جیل بھی ہو سکتی ہے۔‘

پروفیسر مارک وائلڈ کے اندازے کے مطابق اس وقت برطانیہ میں 300 کے قریب روف ٹاپر موجود ہیں۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان مہم جوؤں کے کارنامے سوشل میڈیا پر آنے کے بعد یہ شوق ایک فن سے تبدیل ہوکر محض پرخطر کارنامے دکھا کر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بہت سی کمپپنیاں ان مہم جوؤں کی مہارت کو اپنی مصنوعات کی فروخت کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔‘

ڈاکٹر بریڈلی گاریٹ کا کہنا ہے کہ ’ظاہر ہے اب اس کام میں پیسہ بھی شامل ہوگیا ہے۔ لوگ اب پیسے کے لیے قانون کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کو خطرے میں دالنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔‘

لیکن روف ٹاپر جیمز کنگسٹن کہتے ہیں کہ ان کے شوق کا یہ مقصد نہیں ہے۔

’یہ صرف ویڈیو پوسٹ کرنے کی بات نہیں بلکہ لوگوں کے ساتھ اپنا تجربہ بانٹنا ہے۔ ورنہ تو یہ کام صرف نوکری بن کر رہ جائے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ شوق میرے جنون کے ساتھ میری کمائی کا ذریعہ بھی رہے۔‘

گنیز بک آف ریکارڈ میں ابھی تک کسی بھی عمارت کو بغیر کسی مدد کے چڑھنے کا کوئی ریکارڈ شامل نہیں ہے۔ لیکن بھر بھی یہ شوق ابھی ختم ہونے والا نہیں لگتا۔

جیمزکنگسٹن کے کمپیوٹر میں 20 کے قریب ایسی ویڈیوز موجود ہیں جو سوشل میڈیا پر آنے کی منتظر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے ایسے کام کرنے میں مزا آتا ہے جس سے لوگوں کو کچھ نیا دیکھنے کو ملے۔‘

اسی بارے میں