یمن میں سعودی آپریشن کو ایک سال مکمل ہونے پر بم دھماکے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یمن کے شہر عدن میں تین چیک پوسٹوں پر ہونے والے خودکش بم دھماکوں میں کم سے کم 22 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

یمن میں خانہ جنگی کے بعد سے دولتِ اسلامیہ نے ملک میں قدم جمائے اور کئی خطرناک حملے کیے ہیں۔

یمن تنازعے کا ایک سالیمن کے جنوبی شہر عدن میں ہوٹل پر راکٹ حملہ، ہلاکتوں کا خدشہ

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ یمن کی حکومت اور حوثی باغیوں کے خلاف ہے جنھوں نے دارالحکومت صنعا کے بیشترً علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

یہ دھماکے ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب یمن میں سعودی عرب کے کمان میں جاری فضائی آپریشن کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔

ان دھماکوں میں فوجی سمیت عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں اور درجنوں زخمی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دو بم دھماکوں اُن سرحدی چیک پوسٹوں کے قریب ہوئے جو اتحادی افواج کے استعمال میں تھیں۔ دھماکے کے بعد مسلح حملہ آورں نے فائرنگ بھی کی۔

تیسرا دھماکہ اُس وقت ہوا جب بارودی مواد سے بھری ایمبولینس فوجی چیک پوسٹ سے ٹکڑانے کے بعد پھٹ گئی۔

گذشتہ برس سعودی عرب کے فضائی حملوں کے بعد حکومتی افواج نے عدن پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

یمن میں حکومت کو بحال کرنے اور دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں کو پسپا کرنے کے لیے سعودی عرب نے گذشتہ مارچ میں فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں۔

سعودی عرب کا کہنا ہے ایران حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے جبکہ ایران نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

یمن میں لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 6200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

دوسری جانب جزیرہ نما عرب میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ حالات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے زیر کنٹرول علاقوں کو وسعت دی رہی ہے۔

اسی بارے میں