یورپ میں حملوں پر غم وغصہ زیادہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نٹرنیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ پر جذبات سے بھرپور پیغامات شائع ہونے شروع ہو جاتے ہیں

کیا انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ مغربی ممالک میں دہشت گردی کے واقعات کو زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں؟

یہ بڑے دکھ کی بات ہے لیکن اب اس پر ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوتی۔ جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے، انٹرنیٹ پر لاکھوں لوگ ان حملوں پر اپنے غم وغصے کا اظہار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جوں ہی کسی حملے کی ’تازہ ترین خبر‘ آتی ہے آن لائن پر ایسے ہیش ٹیگز کی بھرمار ہو جاتی ہے جن میں متعلقہ شہر اور اس کی مشہور عمارات کی تصاویر کے ساتھ ساتھ اس شہر کے دکھ میں شریک ہونے اور یکجہتی کے عزز کا اظہار ہوتا ہے۔ ’۔۔۔ کے لیے دعا گو۔‘

مغربی ممالک میں حملوں کے بعد فوراً بعد، حتیٰ کہ ابھی زخمی گلیوں اور ہسپتالوں میں تڑپ رہے ہوتے ہیں، انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ پر جذبات سے بھرپور پیغامات شائع ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ ان پیغامات میں اسلام، مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی، تارکین وطن سے لے کر نیٹو اور یورپی یونین، ہر چیز پر رائے زنی معمول بن چکی ہے۔

ایک خاص الزام جو بار بار معرشاتی رابطوں کی ویب سائٹس پر نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ مغربی یورپ اور امریکہ سے باہر کسی ملک میں ہوتا ہے تو سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ دونوں اسے نظر انداز کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ نومبر 2015 کے پیرس حملوں کے بعد بی بی سی کی ویب سائٹس پر جو خبر سب سے زیادہ پڑھی گئی وہ سات ماہ پہلے کینیا میں ہونے والے دہشت گردی کے ایک واقعے کے بارے میں تھی۔

ہمارا خیال ہے کہ ہمارے قارئین اتنے پرانے حملے کی خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کر کے کوئی نکتہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسی قسم کا رجحان اب ہمیں منگل کو برسلز میں ہونے والے حملوں کے بعد دکھائی دے رہا ہے اور آن لائن پر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ:

’برسلز کے حملے کیوں اہم ہیں، اور استنبول کے حملے کیوں اہم نہیں سمجھے گئے‘

’ استنبول حملے برسلز سے چند دن پہلے ہوئے تھے، لیکن آپ نے ان کے بارے میں کیوں نہیں کچھ سنا۔‘

کیا واقعی یہ الزام درست ہے؟

کیا ترکی اور کینیا میں بم پھٹنے پر سوشل میڈیا اور دیگر ویب سائٹس پر واقعی لوگوں کی آواز کو ’دبا‘ دیا جاتا ہے یا انھیں ’خاموش‘ کر دیا جاتا ہے۔

معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس

برسلز حملوں کے بعد ’برسلز کے لیے دعا کریں‘ اور ’بلجیئم کے لیے دعا کریں‘ کے عنوانات کے تحت بنائے جانے والے ہیش ٹیگز چھ لاکھ 50 ہزار سے زیادہ مرتبہ ٹویٹ کیے گئے۔ ان کے مقابلے میں 19 مارچ کو ’ترکی کے لیے دعا کریں‘ اور ’انقرہ کے لیے دعا کریں‘ کے ہیش ٹیگز چار لاکھ مرتبہ ٹیوٹ یا ری ٹیوٹ کیے گئے۔ان میں وہ ٹیوٹس بھی شامل تھیں جو فرانسیسی اور ترک زبانوں میں کی گئیں۔

دوسری طرف انگریزی اور فرانسیسی میں ’برسلز‘ کے نام سے کی گئیں ٹیوٹس کی تعداد 60 لاکھ سے زیادہ رہی جبکہ ’ترکی‘ اور ’استنبول‘ کے نام سے کل ٹیوٹس کی تعداد صرف 22 لاکھ رہی۔

اگرچہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں، لیکن ہم پھر بھی ان سے کچھ نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ ایک نتیجہ جو بالکل واضح ہے وہ یہ ہے کہ دونوں اعداد و شمار میں خاصا فرق پایا جاتا ہے، لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ترکی کے حملوں پر بات کرنے والوں کو ’خاموش‘ کر دیا گیا یا ان کی ’آواز‘ دبا دی گئی تھی۔

اسی بارے میں