قدیم دیوتا کا مجسمہ کمبوڈیا کو واپس

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ میں ایک عجائب گھر نے کمبوڈیا کو جنوبی مشرق ایشیائی ملک سے چرایا گیا ایک ہندو دیوتا کا قدیم مجسمہ واپس کر دیا ہے۔

پنوم پین میں ایک تقریب کے دوران ڈینور آرٹ میوزیم نے کمبوڈیا کی حکومت کے نمائندوں کو یہ مجسمہ سپرد کیا گیا۔

دسوی صدی عیسوی کے ’راما کا ٹورسو‘ نامی اس مجسمے کا سر نہیں ہے اور یہ کمبوڈیا میں خانہ جنگی کے دوران ’کو کیر‘ مندر سے چرا لیا گیا تھا۔

عجائب گھر کو یہ مجسمہ 30 سال پہلے ملا اور انہیں حال ہی میں کمبوڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ یہ مجسمہ لوٹے ہوئے مال میں شامل تھا۔

کمبوڈیا کے ایک سرکاری نمائندے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ راما کے ٹورسو کا یہاں واپس آنے سے ہمارا دل خوش ہوا ہے۔ ‘

لیکن اس مجسمے کے جسم کے کئی حصے ابھی بھی غائب ہیں اور اس حوالے سے کمبوڈیا نے عجائب گھروں اور نوادرات کے جمع کرنے والوں سے درخواست کی ہے کہ اس مجسمے کی گم شدہ حصوں کو واپس کر دیں۔

ڈیندور عجائب گھر کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ مجسمہ سن 1986 میں نیو یارک کے ایک گیلری سے حاصل کیا۔ انھوں نے ’ڈینور پوسٹ‘ کو بتایا کہ انہیں احساس ہوا کہ شاید یہ مجسمہ 2013 میں چوری کیا گیا۔ اور یہ اس وقت پتا چلا جب کمبوڈیا نے کئی فن پاروں کی نشاندہی کی جو کہ ملک میں 1970 کی دہائی میں خانہ جنگی میں چرا لیے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمبوڈیا کی حکومت نے ان سے پچھلے سال رابطہ کیا اور تفصیلی حقائق اور معلومات کی فراہمی کے بعد ہی اس مجسمے کی واپسی طے پائی ہے۔

اس سے پہلے جنوری میں ایک فرانسیسی عجائب گھر نے ساتویں صدی کے ایک مجسمے کا سر کمبوڈیا کو واپس کر دیا۔ یہ 130 سال پہلے چرا لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں