کمیونسٹ پارٹی کی ’مداخلت‘ پر ایڈیٹر مستعفیٰ

تصویر کے کاپی رائٹ

چین کے ایک نامور صحافی اخبار کے ادارتی امور میں کمیونسٹ پارٹی کی مداخلت کی بنا پر اخبار کی ادارت سے مستعفیٰ ہو گئے ہیں۔

یو شلوئی نامی صحافی نے، جو سدرن میٹروپولس ڈیلی کے کلچرل ایڈیٹر تھے، اپنے استعفے میں لکھا کہ وہ مزید حکمران کیمونسٹ پارٹی کی لائن کی پیروی نہیں کر سکتے۔ انھوں نے اپنے استعفے کی نقل بھی اپنے بلاگ میں لگائی لیکن اسے کچھ دیر بعد ہی ہٹا دیاگیا۔

استعفے کی وجوہات کے کالم میں یو شلوئی نے لکھا: ’میں آپ کا نام اپنے نام سے نہیں لگا سکتا۔‘ انھوں نے یہ جملہ صدر شی جی پنگ کے اس بیان کی حوالے سے لکھا کہ جس میں انھوں نے صحافیوں کو کہا تھا کہ انھیں کمیونسٹ پارٹی سےاتنی وفاداری دکھانی چاہیے تاکہ وہ بھی پارٹی کے نام سے جانے جائیں۔

یو شلوئی کی پوسٹ کو فوراً سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا لیکن ان کی پوسٹ اب بھی نگرانی والی ویب سائٹوں پر دیکھی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption صدر شی جن پنگ نے فروری میں اخباروں کے دفاتر کے دورے کے دوران صحافیوں سے مکمل وفاداری کا مطالبہ کیا تھا

یو شلوئی نے اپنے استعفے میں لکھا: ’میں بوڑھا ہو رہا ہوں اور برسوں سےگھٹنے ٹیک ٹیک کر اب میرے گھٹنے بھی سہارا دینے کے قابل نہیں رہے۔‘

انھوں نے بلاگ کی نگرانی کرنے والوں کا طنزیہ انداز میں شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’میں برسوں تک آپ کو پریشان کرنے پر معافی کا طلب گار ہوں۔‘

جب بی بی سی نے یو شلوئی سے رابطہ کر کے ان کے استعفے کی وجوہات جاننی چاہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے اور انھوں نے جو کچھ کہنا تھا وہ سوشل میڈیا پر کہہ چکے ہیں۔

چین میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اسی اخبار سدرن میٹروپولس ڈیلی کے ایک کالم نگار اب پولیس کی تحویل میں ہیں، جنھوں نے تھائی لینڈ میں دعویٰ کیا تھا کہ ان پر اپنے ساتھی کارکنوں کے بارے میں معلومات مہیا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ سرخی لگانے پر فرنٹ پیچ ایڈیٹر کو برخاست کر دیا گیا تھا

ایک ماہ پہلےسدرن میٹروپولس ڈیلی کے فرنٹ پیچ ایڈیٹر کو ایک ایسی سرخی لگانے پر برخاست کر دیاگیا تھا جس میں مبینہ طور پر حکومت پر تنقید کا پہلو نکلتا تھا۔

اسی بارے میں