تائیوان میں چار سالہ بچی کا ’سر قلم‘ کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ حملہ اس وقت ہوا جب بچی سائیکل چلاکر اپنی والدہ کے ہمراہ میٹرو سٹیشن کی جانب جارہی تھی

تائیوان میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت تائی پی میں ایک شخص نے چار برس کی ایک بچی پر حملہ کر کے اس کی ماں کے سامنے ہی اس کا سر قلم کر دیا۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب بچی سائیکل چلاکر اپنی والدہ کے ہمراہ میٹرو سٹیشن کی جانب جارہی تھی۔

بچی کو اس کی پشت کی جانب سے پکڑنے کے بعد ایک چُھرے کی مدد سے اسے قتل کر دیا گیا۔ شور شرابے کے درمیان راہ گیروں نے حملہ آور کو پکڑ تو لیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

پولیس نے تائیوان کی سینٹرل نیوز ایجنسی (سی این اے) کو بتایا ہے کہ حملہ آور ذہنی بیماری میں مبتلا رہے ہیں۔

بچّی کی والدہ نے سی این اے کو بتایا کہ اُن کی بیٹی سڑک کے کنارے پٹری پر اپنی سائیکل نہیں چڑھا پارہی تھی اور اُنھیں یہ لگا کہ وہ شخص اُن کی مدد کرنے کے لیے آرہا ہے۔ لیکن مدد کرنے کے بجائے اس شخص نے بچی پر حملہ کردیا۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے دیکھا کہ مشتبہ شخص نے میری بیٹی کو سنگدلی سے ایک چُھرے سے ضربیں لگائیں۔ میں نے فوراً حملہ آور کو پکڑ لیا لیکن میں اُس کو دُور نہیں ہٹا سکتی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ مدد کے لیے چلانے لگیں اور لوگ اُس شخص کو قابو کرنے کے لیے آئے جس کے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی۔

سی این اے کے مطابق بعد میں جس پولیس سٹیشن میں 33 سالہ وانگ نامی ملزم کو لے جایا گیا تھا، وہاں غصے سے بپھرے ہوئے لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔

خبر رساں ایجنسی نے مزیدکہا ہے کہ ماضی میں ملزم کی جانب سے منشیات کا استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اُن کی ذہنی بیماری کا علاج بھی کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں