دہشتگردوں کی شہریت ختم کرنے کی تجویز نامنظور

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نومبر میں پیرس میں دہشتگردانہ حملوں کے بعد دہشتگرد شہریوں کی شہریت ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی

فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے دہشتگردی کے الزام میں سزا پانے والے شہریوں کی شہریت ختم کرنے کےلیے مجوزہ آئینی ترمیم کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فرانس کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوان دہشتگردی میں ملوث فرانسیسی شہریوں کی شہریت کو ختم کرنے کے مجوزہ مسودہ قانون پر متفق نہیں ہو سکے۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ اب اس مجوزہ ترمیم پر اتفاق ناممکن ہو چکا ہے۔

دہشتگردی میں ملوث فرانسیسی شہریوں کی شہریت ختم کرنے کی تجویز نومبر میں پیرس پر دہشتگردانہ حملوں کے بعد پیش کی گئی تھی۔

رواں سال فروری میں فرانس کی پارلیمنٹ کی جانب سے آئین میں ترامیم کے تحت تجویز دی گئی تھی کہ ملک میں دہشت گردی کے مرتکب افراد کی شہریت منسوخ کی جا سکے گی۔

فرانسیسی پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی جانب سے یہ متنازع ترامیم ملک میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد کی گئی تھیں۔

پارلیمان کی جانب سے کی جانے والے ترامیم کے تحت دہشت گردوں کی شہریت منسوخ کرنے کے علاوہ آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ کی دفعات بھی مستقل طور پر شامل کی گئیں۔

فرانسیسی اراکینِ پارلیمنٹ کی بڑی اکثریت نے ان ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔ تاہم یہ ترامیم حتمی نہیں تھیں کیونکہ ان کو آئین کا مستقل حصہ بنانے کے لیے انھیں ملک کے ایوانِ بالا اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں منظور کرنا ضروری ہوتا ہے جو بدھ کے اجلاس میں نہ ہو سکا اور اس طرح یہ مجوزہ آئینی ترامیم ختم کر دی گئیں۔

آئینی ترمیم کے پہلے مسودے میں صرف دہری شہریت رکھنے والے دہشتگردوں کی فرانسیسی شہریت ختم کرنے کی تجویز تھی۔

پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے جب اس تجویز کو منظور کیا تھا تو دہری شہریت کے الفاظ حدف کر دیئے تھے۔ آئین میں ترمیم کے مخالفین کا موقف ہے کہ اس ترمیم کے منظور ہونے سے فرانس میں شہریت کا دوہرا نظام رائج ہو جائےگا اور فرانس کے مسلمان اس کا نشانہ بن جائیں گے۔

عالمی قوانین کےتحت کسی بھی شخص کو کسی بھی صورتحال میں بے ریاست نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں